87 مبینہ عسکریت پسند ہلاک،107 گرفتار

خیبر ایجنسی: فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنتحصیل باڑہ میں گزشتہ پانچ روز سے مقامی شدت پسند تنظیم لشکرِ اسلام کے خلاف کارروائی جاری ہے
    • مصنف, عبدالحئی کاکڑ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ کئی دنوں سے جاری کارروائی کے دوران اب تک ستاسی مبینہ عسکریت پسندوں کو ہلاک اور ایک سو سات مشکوک افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

فرنٹیئر کور میڈیا سیل کی جانب سے سنیچر کی سہ پہر کو جاری ہونے والے بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تازہ کارروائیوں میں تیس مبینہ عسکریت پسندوں کو ہلاک کردیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق تیراہ کے علاقے گوگرنہ اور سنڈاپال میں کی جانے والی اس کارروائی میں سات گاڑیوں جبکہ قمر خیل کے علاقے میں بارہ مکانوں کو تباہ کیا گیا ہے۔ تاہم ن دعوؤوں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

اس سے قبل سنیچر کی صبح پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خیبر ایجنسی کے پولٹیکل ایجنٹ طارق حیات خان نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ پانچ دنوں کی کارروائی میں اب تک ستاون مبینہ عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔ان کے مطابق جن ایک سو سات مشکوک افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ان کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر کارروائی مزید موثر ہوگئی ہے۔

طارق حیات خان کے بقول سکیورٹی فورسز نے مبینہ عکسریت پسندوں کے چون مشکوک ٹھکانے اور سات مراکز کو تباہ کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مبینہ عسکریت پسندوں کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے اور علاقے سے ان کے خاتمے تک کارروائی جاری رہے گی۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے کرفیو میں سنیچر کو دوپہر دو سے پانچ بجے تک نرمی کی جارہی ہے۔

ادھر مقامی شدت پسند تنظیم کے سربراہ منگل باغ نے جمعہ کی رات اپنے غیر قانونی چینل پر تقریر کے دوران یہ دھمکی دی ہے کہ کارروائی جلد بند نہ ہونے کی صورت میں وہ حکومت کے خلاف مزاحمت شروع کردیں گے۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ مسلسل گولہ باری اور کرفیو کے نفاذ کی وجہ سے بعض خاندانوں نے علاقے سے نقل مکانی کی ہے۔

یاد رہے کہ خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ کے ملک دین خیل، سپاہ، شلوبر، آکاخیل اور آس پاس کے علاقوں میں گزشتہ پانچ روز سے مقامی شدت پسند تنظیم لشکرِ اسلام کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہلاک اور گرفتار ہونے والوں میں بعض بے گناہ شہری بھی شامل ہیں۔

خیبر ایجنسی کا زیادہ تر علاقہ گزشتہ چار سالوں سے کئی مقامی شدت پسند تنظیموں کے زیر کنٹرول ہے اور حکومتی عملداری صرف دفاتر اور مرکزی شاہراہ تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔ اس سے قبل کئی بار اس قسم کی کارروائیاں کی گئی ہیں اور ہر بار حکومت نے کارروائی کے خاتمے کے اعلان کے وقت دعویٰ کیا ہے کہ خیبر ایجنسی سے شدت پسندوں کا صفایا کر دیا گیا ہے لیکن کچھ ہی عرصے کے بعد شدت پسند تنظمیں دوبارہ منظر عام پر آکر اپنی عملداریاں قائم کر لیتی ہیں۔