’اس نظام سے تو ڈوگرہ نظام بہتر تھا‘

حکومتِ پاکستان نے شمالی علاقہ جات میں نیا سیاسی و انتظامی ڈھانچہ ترتیب دیا ہے
،تصویر کا کیپشنحکومتِ پاکستان نے شمالی علاقہ جات میں نیا سیاسی و انتظامی ڈھانچہ ترتیب دیا ہے
    • مصنف, آصف فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

گلگت اور بلتستان سے تعلق رکھنے والے بعض قوم پرست عوامی نمائندوں اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے حکومت پاکستان کی جانب سے اپنے علاقے کے لیے تیار کیے گئے آئینی پیکج کو مسترد کرتے ہوئے حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ یہ آئینی پیکج شمالی علاقہ جات میں پاکستان مخالف جذبات کو مزید ابھارنے کا باعث بنے گا۔

اسلام آباد میں غیر سرکاری تنظیموں سنگی ڈیویلپمنٹ فاؤنڈیشن اور ایس ڈی پی آئی کے زیراہتمام ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے شمالی علاقہ جات، جنہیں نئے آئینی پیکج کے تحت گلگت و بلتستان قرار دیا گیا ہے، کی تحلیل شدہ قانون ساز اسمبلی کے ارکان، قوم پرست اور دیگر سیاسی جماعتوں کے راہنماؤں نے حکومت پاکستان سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ عوامی نمائندوں اور علاقے کے عوام سے مشاورت کے بعد نیا آئینی پیکج تشکی دیا جائے۔

واضح رہے کہ صدر پاکستان آصف علی زرداری نے پیر کے روز گلگت و بلتستان کے لیے تیار کردہ آئینی پیکج کی منظوری دی ہے جس کے تحت شمالی علاقوں میں وزیراعلیٰ اور گورنر کی سربراہی میں نیا سیاسی و انتظامی ڈھانچہ ترتیب دیا گیا ہے۔

قراقرم نیشنل فرنٹ کے سربراہ علی احمد جان نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں کے لیے یہ نام نہاد پیکج بنایا گیا ہے ان سے اس بارے میں مشاورت نہیں کی گئی۔ ’عوام تو دور کی بات شمالی علاقوں کے منتخب نمائندے اور خود پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے مقامی راہنماؤں کے لیے بھی یہ پیکج بریکنگ نیوز تھا۔ ایسے میں بیس لاکھ لوگوں پر ان کی مرضی کے بغیر یہ نیا نظام کس طرح چلایا جا سکتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ اس پیکج میں عوامی نمائندوں کو میونسپل کی سطح کے اختیارات دیے گئے ہیں جبکہ اصل اختیارات اب بھی اسلام آباد میں بیٹھے بیورکریٹس کے ہاتھوں میں ہی رہیں گے۔

قوم پرست رہنما علی احمد جان نے کہا کہ ’شمالی علاقوں کے عوام نے تقسیم برصغیر کے وقت پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کے لیے جدوجہد اس لیے نہیں کی تھی کہ باسٹھ برس بعد یہ لالی پاپ ان کے ہاتھوں میں تھما دیا جائے۔ شمالی علاقوں کا مسئلہ حقوق اور عوام کی پہچان کا مسئلہ ہے، یہ کوئی انتظامی معاملہ نہیں ہے جسے پیکجز کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے‘۔

گلگت بلتستان نیشنل موومنٹ کے سربراہ ڈاکٹر غلام عباس نے کہا کہ پاکستان شمالی علاقوں کے عوام کو خفیہ ایجنیسوں کے ذریعے زیر کرنے کی کوشش کرتا ہے اور یہ پیکج بھی اسی بھونڈے طرز حکومت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت اس طرح کے اقدامات کے ذریعے شمالی علاقوں کے عوام کی حمایت کھو رہی ہے۔ ’اگر پاکستانی قیادت نے اسی طرح کا رویہ ہمارے عوام کے ساتھ رکھا تو پھر جس دن اقوام متحدہ کی قرارداد کے تحت علاقے میں خود ارادیت کے لیے ریفرنڈم ہوا تو پاکستان کو کوئی ووٹ نہیں ملے گا‘۔

ڈاکٹر غلام عباس نے کہا کہ یہ آئینی پیکج شمالی علاقوں کے عوام کی شناخت غصب کرنے کی کوشش ہے۔ صدر زرداری اس اور شمالی علاقوں کے عوام کے ساتھ ہونے والی ماضی کی زیادتیوں پر بلوچستان کی طرح ہمارے عوام سے بھی معافی مانگیں۔

بلتستان نیشنل موومنٹ کے نواز خان ناجی نے کہا کہ حکومت پاکستان اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق ہمارے خطے کی نگران ہے لیکن اسے ہمارے اوپر حکمران مسلط کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ ’بلوچستان اور صوبہ سرحد کے قبائلی علاقوں میں حکومت نے زبردستی کر کے دیکھ لیا لیکن سرکاری ایجنسیوں کی عقل میں بات نہیں آئی۔ اب اگر اسی طرح کی دھونس زبردستی ہمارے ساتھ کی گئی تو اس کا نتیجہ بھی مختلف نہیں ہوگا۔‘

شمالی علاقوں کے لیے مسلم لیگ (ن) کے سربراہ حافظ حفیظ الرحمٰن اور تحلیل شدہ قانون ساز اسمبلی کے رکن نے کہا کہ اس پیکج سے صرف یہ فائدہ ہوا ہے کہ پاکستان میں شمالی علاقوں کے لیے شعور بیدار ہو رہا ہے۔ ’ورنہ اس سے پہلے تو پاکستان میں ہمیں اتنی اہمیت بھی نہیں دی جاتی تھی کہ کوئی ہمارے بارے میں جاننے کی کوشش کرتا کہ ہم کون لوگ ہیں اور ہماری شناخت کیا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں شمالی علاقوں کا نام لینے سے وہاں کی سیر گاہوں کا تصور سامنے آتا ہے لیکن وہاں پر رہنے والے بیس لاکھ لوگوں کے حقوق کے بارے میں پاکستان میں کوئی شعوری کوشش نہیں ہو رہی۔ ’پاکستان میں چاہے پیپلز پارٹی کی حکومت ہو یا میری پارٹی مسلم لیگ کی، شمالی علاقوں پر حکمرانی نوکر شاہی نے کرنی ہوتی ہے۔ اور اس نئے نظام میں بھی یہ کام سرکاری افسر اور زیادہ سے زیادہ گورنر کرے گا جو شمالی علاقوں کا نمائندہ ہر گز نہیں ہوگا۔‘

مسلم لیگی رہنما نے کہا کہ موجودہ نظام سے تو قبل از تقسیم کا انگریز اور ڈوگروں کا نظام بہتر تھا۔ ’اگر پاکستان شمالی علاقوں کا نظام نہیں چلا سکتا تو بتا دے ہم خود کوئی بندوبست کر لیں گے۔‘

شمالی علاقوں کی تحلیل شدہ قانون ساز اسمبلی کی رکن فوزیہ سلیم نے کہا کہ شمالی علاقوں میں اس نئے نظام کے بارے میں بہت تحفظات ہیں لیکن ایسا بھی نہیں کہ اس میں کوئی بھی اچھی بات نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کونسل کا سربراہ پاکستان کا وزیراعظم ہوگا جس کی وجہ سے وہاں کے عوامی نمائندوں کی پاکستانی حکومت تک رسائی آسان ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ شمالی علاقوں کے عوام اور راہنما اس پیکج پر نالاں اور حکومت سے شکوہ کر رہے ہیں لیکن یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ شکوے اور گلے اپنوں ہی سے کئے جاتے ہیں۔