بی ایس او کا علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ

بلوچ لاپتہ افراد
،تصویر کا کیپشنچار ہزار سے زیادہ لاپتہ بلوچ کارکنوں میں ڈیڑھ سے کے قریب خواتین شامل ہیں: ولید رند
    • مصنف, اعجاز مہر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن (آزاد گروپ) کی جانب سے سینکڑوں لاپتہ بلوچ سیاسی کارکنوں کی بازیابی کے لیے سوموار سے اسلام آباد میں تین روزہ علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ لگایا گیا ہے۔

نیشنل پریس کلب کے باہر کیمپ لگانے والے طلباء نے الزام لگایا ہے کہ موجودہ جمہوری حکومت میں بھی بلوچ سیاسی کارکنوں کی گمشدگی کا سلسلہ بند نہیں ہوا۔ علامتی بھوک ہڑتال کرنے والے بلوچ طلباء کے ایک رہنما ولید رند نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور سے بلوچوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں اور تاحال چار ہزار سے زیادہ بلوچ سیاسی کارکنوں کو خفیہ ایجنسیوں نے غائب کیا ہے۔

جب ان سے پوچھا کہ موجودہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ بلوچستان میں سیاسی کارکنوں کی گمشدگی کا سلسلہ ختم ہوگیا ہے تو انہوں نے کیمپ میں لگے ایک بینر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس پر درج بی ایس او آزاد کے نائب چیئرمین ذاکر مجید سمیت آٹھ سے زیادہ بلوچوں کے نام اور ان کی گمشدگی کی تاریخیں بتائیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ناکو فیض بلوچ، ڈاکٹر دین محمد، جلیل ریکی، مشتاق بلوچ، ناروے کے شہری احسان ارجمندی، مجیب بلوچ اور ماسٹر یحٰی کو موجودہ حکومت کے دور میں بلوچستان کے مختلف شہروں سے خفیہ اداروں نےگرفتار کرکے غائب کردیا ہے۔

ولید رند نے دعویٰ کیا کہ چار ہزار سے زیادہ لاپتہ بلوچ کارکنوں میں ڈیڑھ سو کے قریب خواتین شامل ہیں۔ جس میں ان کے بقول سکولوں کی طالبات بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ لاپتہ بلوچ سیاسی کارکنوں کی تعداد کا معاملہ ابتدا سے ہی متنازعہ رہا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ گم شدہ افراد کی تعداد آٹھ سو کے قریب ہے اور انہیں عدالتوں میں پیش کیا جاتا رہا ہے اور کوئی خاتون زیر حراست نہیں ہے۔

لیکن بلوچ قومپرست رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ لاپتہ سینکڑوں افراد کو آج تک عدالت میں پیش نہیں کیا گیا اور وہ سکیورٹی فورسز کے مبینہ عقوبت خانوں میں پڑے ہیں۔

ولید بلوچ نے بتایا کہ گزشتہ روز کوئٹہ پریس کلب کے سامنے ان کے پرامن مظاہرے کے دوران چالیس کے قریب کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔ جس میں سے ان کے مطابق سات کارکنوں کو ’ٹارچر سیلوں‘ میں منتقل کیا گیا اور دیگر کو رہا کردیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کے مظالم آج بھی جاری ہیں اور ان کی بھوک ہڑتال کا مقصد اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں کی توجہ مبذول کروانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت زبانی کلامی دعوے تو کرتی ہے لیکن ان پر عمل نہیں کرتی۔