کراچی میں ایدھی کا امن مارچ

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان میں دہشت گردی، بدامنی اور تعصب کے خلاف سماجی خدمت گار عبدالستار ایدھی کی قیادت میں جمعہ کو کراچی میں امن مارچ کیا گیا۔ مارچ کی ابتداء ایدھی سینٹر ٹاور سے ہوئی اور یہ ایم اے جناح روڈ سے ہوتا ہوا محمد علی جناح کے مزار پر اختتام پذیر ہوا۔
عبدالستار ایدھی وہیل چیئر پر سوار تھے اور ان کے ساتھ پچاس کے قریب رضاکار پیدل چل رہے تھے، جنہوں نے ہاتھوں میں پاکستان کا قومی جھنڈے اور بینر اٹھا رکھے تھا۔
مارچ میں شریک ایمبولینس کے مائیکرو فون کے ذریعے لوگوں کو اس مارچ میں شریک ہونے کی اپیلیں ہوتی رہیں مگر شرکاء کی تعداد میں اضافہ نہیں ہوسکا۔
مولانا عبدالستار ایدھی کا کہنا تھا کہ وہ امن کے لیے گزشتہ ستر سالوں سے کام کر رہے ہیں، انہیں کوئی سنے یا نہ سنے انہیں اس کی پرواہ نہیں مگر وہ امن کا پیغام دیتے رہیں گے۔
ایدھی کے مطابق پاکستان میں کہیں بھی بم دھماکہ، دہشت گردی یا ظلم ہوتا ہے وہ وہاں پہنچ کر کام کرتے ہیں کیونکہ وہ دہشت گردی کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سے غربت اور افلاس پھیلتا ہے اور سرمایہ داروں کو لوٹنے کا موقعہ مل جاتا ہے۔
عبدالستار ایدھی کا کہنا تھا کہ اگر غربت اور ظلم ختم ہوجائے تو دہشت گردی کے واقعات تقریباً ختم ہوجائیں گا، شرپسند غربت کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور دہشت گردی کی پرورش کرتے ہیں۔
فلاحی تنظیم کے سربراہ عبدالستار ایدھی نے وزیرستان میں جاری آپریشن کی حمایت کی اور کہا کہ شدت پسندوں کو اسی طریقے سے روکا جاسکتا ہے۔’سب لوگ خوف اور ڈر میں بیٹھے ہوئے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ بم حملوں سے امن نہیں ہوسکتا اور وہ یہ پیغام ملک بھر میں لے جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی




















