ڈاکٹر عافیہ کے اغوا کا مقدمہ درج

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی پولیس نے چھ سال کے بعد پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے اغوا کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کر لیا ہے۔
گلشن اقبال تھانے میں یہ مقدمہ ڈاکٹر عافیہ کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی مدعیت میں دائر کیا گیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ ان کی بہن تیس مارچ دو ہزار تین کو اپنے گھر گلشن اقبال سے کراچی ائرپورٹ جانے کے لیے نکلیں تھیں جس کے بعد وہ لاپتہ ہیں۔
ڈاکٹر فوزیہ کی درخواست کے مطابق ان کی بہن اسلام آباد کے لیے نکلی تھیں، نہ وہ راولپنڈی ایئرپورٹ پہنچیں اور نہ ہی واپس گھر آئی ہیں اس لیے انہیں شبہ ہے کہ انہیں اغوا کیا گیا ہے۔
اس مقدمے کے تفتیشی افسر شاہد قریشی کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر فوزیہ سے رابطہ کیا گیا ہے، ان کا بیان ریکارڈ کیا جائے گا جس کی روشنی میں تفتیش ہوگی۔
ان کے مطابق ڈاکٹر فوزیہ نے ایف آئی آر میں خود تحریر کیا ہے کہ ان کی بہن امریکی جیل میں ہیں۔
شاہد قریشی کا کہنا ہے کہ’انہوں نے یہ تحریر نہیں کیا کہ وہ کس کے ساتھ تھیں، کہاں کے لیے نکلی تھیں، کیا ہوا تھا؟ اغوا ہونے کے بعد کیا انہیں آگاہ کیا گیا تھا؟۔ یہ سب سوالات ڈاکٹر فوزیہ سے کیے جائیں گے‘۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کے بیٹے کا بیان بھی ریکارڈ کیا جائے گا جو اس وقت ان کے ساتھ تھا۔ مقدمے کی تفتیش کے لیے پولیس کی مشترکہ تفتیشی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔
ڈاکٹر فوزیہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایف آئی آر درج کرانے کے لیے کئی درخواستیں دی تھیں۔ انہیں علم نہیں ہے کہ کس درخواست پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈاکٹر عافیہ کو مبینہ طور پر امریکہ کے حوالے کرنے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ میں بھی درخواستیں زیر سماعت ہیں۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی پاس بھی یہ معاملہ زیر بحث ہے اور کمیٹی ڈاکٹر عافیہ کی امریکہ منتقلی کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے۔
ڈاکٹر فوزیہ کا کہنا ہے کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے دباؤ میں آکر پولیس نے یہ ایف آئی آر درج کی ہے۔ کیونکہ قائمہ کمیٹی نے پولیس حکام کو روبرو طلب کیا تھا، ہنگامی بنیادوں ہر آیف آئی آر درج کرکے وہاں جاکر بتایا گیا ہے کہ مقدمہ درج ہے۔
ڈاکٹر فوزیہ کے مطابق انہوں نے ایف آئی آر کے لیے جو درخواستیں دی تھیں ان میں کچھ نام بھی نامزد تھے، عدالت میں خفیہ اداروں کو بھی شامل کیا گیا تھا، 'مختلف طریقوں سے مختلف درخواستیں دی گئیں کہ کچھ نہیں تو نامعلوم کے خلاف ہی مقدمہ کردیں۔'





















