غیر قانونی تارکین وطن کو نوٹس

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
حکومت نے کراچی میں مقیم غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے جمعہ کو کراچی میں رینجرز اور دیگر اداروں کے حکام سے اجلاس کیے، جس کے بعد انہوں نے بتایا کہ تیس روز کے اندر ملک بھر اور خاص طور پر کراچی میں موجود غیر قانونی تارکین وطن خود کو رجسٹرڈ کرا لیں بصورت دیگر ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ تمام ایس ایچ اوز کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں سروے کریں اور یہ رپورٹ تیار کریں کہ وہاں کتنے غیر ملکی غیر قانونی طور پر رہائش پذیر ہیں۔
’جتنے بھی غیر قانونی تارکین وطن ہیں بنگالی ہوں، افغانی ہوں یا کہیں سے بھی آئے ہوئے ہوں ہم ان کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے جا رہے ہیں، غیر قانونی بنگالی نظر آتا ہے یا افغانی نظر آتا ہے، جس ملک کہ ہوں وہاں بھیج دیں گے، کوئی رحمدلی کا مظاہرہ نہیں کیا جائے گا، وہ پندرہ دن کے اندر کراچی چھوڑ دیں۔‘
رحمان ملک کا دعویٰ تھا کہ کراچی میں جاری بدامنی میں غیر قانونی تارکین وطن بھی ملوث ہیں۔
تارکین وطن کے اندراج کے لیے کام کرنے والے ادارے نیشنل ایلینز رجسٹریشن اتھارٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ صرف کراچی میں بتیس لاکھ کے قریب تارکین وطن نے غیر قانونی طور پر رہائش اختیار کی ہوئی ہے جن میں تیس لاکھ نے اندراج نہیں کروایا۔
دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ کے قومی اسمبلی میں پارلیمانی رہنماء اور وفاقی وزیر فاروق ستار کا کہنا ہے کہ یہ تارکین وطن کے خلاف کارروائی ضرور کی جائے مگر اس کے ساتھ اصل تخریب کاروں پر بھی نظر رکھی جائے۔
’ایسا نہ ہو کہ پولیس اصل تخریب کاروں سے نمٹنے کے بجائے اس کی آڑ میں کراچی میں مقیم تارکین وطن کی طرف ہی متوجہ ہوجائے جس سے رشوت ستانی میں مزید اضافہ اور لوٹ مار کا بازار گرم ہوجائے اور پولیس کی اصل ہدف سے نظر ہٹ جائے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ غیر قانونی تارکین وطن میں اکثریت بنگالیوں، بہاریوں اور افغانیوں کی ہے، جن میں بنگالی، بہاری اور برمی مچھلی کی صنعت سے وابستہ ہیں۔





















