کراچی میں فوج کی ضرورت نہیں: رحمان

رحمان ملک(فائل فوٹو)
،تصویر کا کیپشنٹارگٹ کلنگ میں پیپلزپارٹی اور متحدہ کے کارکن ہلاک ہو رہے ہیں اور فائدہ تیسرے فریق کو ہو رہا ہے
    • مصنف, نثار کھوکھر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

وزیرداخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ کراچی کے حالات اتنے خراب نہیں ہوئے ہیں کہ شہر میں فوج کو طلب کیا جائے۔ان کا کہنا ہے کہ کراچی میں سرجیکل آپریشن کے لیے رینجرز کو اختیارات دیے گئے ہیں اور ٹارگِٹ کلنگ برداشت نہیں کی جائے گی۔

رحمان ملک نے یہ باتیں سندھ کے وزیراعلیٰ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کے دوان کی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ فوج کوتب طلب کیا جاتا ہے جب پولیس اور رینجرز مکمل طور پر حالات کا سامنا کرنے میں ناکام ہو گئے ہوں مگر ان کے مطابق کراچی میں ایسے حالات نہیں ہیں۔

خیال رہے کہ حکمران جماعت پیپلزپارٹی کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے جمعہ کو ایک پریس کانفرنس میں فوج اور رینجرز سے کراچی میں قیام امن کے لیے مدد کی اپیل کی تھی۔

متحدہ کے رہنماء ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کے کارکنان کو جرائم پیشہ افراد ’ٹارگٹ کلنگ‘ میں ہلاک کر رہے ہیں مگر حکومت ان کے خلاف کارروائی نہیں کر رہی ہے۔

وزیرداخلہ رحمان ملک نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں امن امان کے متعلق ایک اجلاس کی صدارت کے بعد میڈیا سے گفتگو کی۔ان کا کہنا ہے کہ ٹارگٹ کلنگ میں پیپلزپارٹی اور متحدہ کے کارکن ہلاک ہو رہے ہیں اور فائدہ تیسرے فریق کو ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ تیسرے فریق کو حالات پر مسکرانے کی اجازت نہیں دیں گے۔کیونکہ تیسرے فریق کی کوشش ہے کہ کسی طرح ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کا جھگڑا ہو مگر وہ ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات گزشتہ دو ماہ سے جاری ہیں مگر گزشتہ دو دنوں کے دوران ان ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ کراچی کے علاقے لیاری میں جمعہ کو پانچ اور جمعرات کو آٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔لیاری کے بلوچوں اور متحدہ قومی موومنٹ نے ایک دوسرے پر ان ہلاکتوں کے الزامات عائد کیے ہیں۔

وزیرداخلہ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ کراچی میں سرجیکل آپریشن کے لیے رینجرز کو اختیارات دیے گئے ہیں جو کہ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ سیٹلائٹ کے ذریعے نگرانی کی سہولت کے حصول کے لیے کوشش کی جا رہی ہے تاکہ جو لوگ رات کو ٹارگٹ کلنگ کا منصوبہ تیار کرتے ہیں ان کی اطلاع بر وقت مل سکے۔

رحمان ملک نے کہا ہے کہ کراچی ٹارگٹ کلنگ میں کوئی بھی ملوث ہو چاہے ایم کیو ایم ہو یا بلوچی مگر کسی کو برداشت نہیں کیا جائیگا اور ٹارگیٹ کلنگ کا خاتمہ کیا جائے گا۔

وزیر داخلہ رحمان ملک سے جب پوچھا گیا کہ لیاری میں جھگڑے کی اصل وجہ گٹر باغیچہ ہے اور حکومت اس پر کوئی فیصلہ کیوں نہیں کرتی تو انہوں نے جواب دیا کہ گٹر باغیچہ کا معاملہ عدالت میں زیرسماعت ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی وزارت داخلہ کو کہا گیا ہے کہ گٹر باغیچہ کی بیس سال پہلے والی پوزیشن معلوم کریں تاکہ اندازہ ہو کہ گٹر باغیچہ پر کس کا قبضہ ہے۔