گندم کی پیداور کا ہدف کم کر دیا گیا

پاکستان میں گندم کی کل سالانہ کھپت تقریباً بائیس ملین ٹن ہے جبکہ حکومت کے پاس پہلے بھی گندم کے ذخائر موجود ہیں
،تصویر کا کیپشنپاکستان میں گندم کی کل سالانہ کھپت تقریباً بائیس ملین ٹن ہے جبکہ حکومت کے پاس پہلے بھی گندم کے ذخائر موجود ہیں

اس سال ربیع کی فصل کے لیے ضرورت سے کم پانی دستیاب ہونے کے خدشے کے پیشِ نظر وفاقی حکومت نے گندم کی پیدوار کا ہدف بیس لاکھ ٹن تک کم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ادھر ماہرین کا خیال ہے کہ ملک کی دیگر زرعی پیدوار میں بھی اس سال بیس فیصد تک کمی ہو سکتی ہے۔

پاکستان میں اس سال معمول سے کم بارشیں متوقع ہیں جس کے باعث ملک میں ربیع کی فصلوں کے لیے تیس فیصد تک پانی کی کمی کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے گزشتہ ہفتے وزرات خوراک و زراعت کے اعلی سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پانی کی اس متوقع کمی سے نمٹنے کے لیے وزارت کو منصوبہ اور پیش بندی کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

وزیراعظم کی ہدایت کے پیشِ نظر وزارتِ خوراک نے ابتدائی طور پر گندم کے پیداواری تخمینے پر نظر ثانی کرتے ہوئے اسے پچیس ملین ٹن سے تئیس ملین ٹن کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان میں جہاں گندم کا آٹا روزانہ خوراک کا اہم ترین جزو ہے، گندم کی کل سالانہ کھپت تقریباً بائیس ملین ٹن ہے جبکہ حکومت کے پاس پہلے بھی گندم کے ذخائر موجود ہیں۔

تاہم زرعی ماہر اور ایگر بزنس فورم کے سربراہ ابراہیم مغل کا کہنا ہے کہ پانی کی کمی سے صرف گندم نہیں بلکہ دیگر پیداوار بھی متاثر ہوں گی۔

’یہ صرف گندم کا معاملہ نہیں ہے۔اس وقت ملک میں تیس لاکھ ایکڑ پر چنے کی، پندرہ لاکھ ایکڑ پر مکئی اور اسی طرح سورج مکھی اور دیگر اجناس کی فصلیں بوئی جا چکی ہیں جنہیں ضرورت کے مطابق پانی نہ ملنے کی صورت میں ان کی پیداوار میں خاصی کمی کا خدشہ ہے‘۔

ابراہیم مغل نے بتایا کہ پانی کی قلت کے باعث ملکی زراعت ایک طرح کی خشک سالی کا شکار ہے جس سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے۔

محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر اجمل شاد نے ابراہیم مغل کے خدشات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ’پاکستان میں سردیوں میں ویسے ہی بارشیں کم ہوتی ہیں اور اس سال تو معمول سے بھی تیس سے چالیس فیصد تک کم بارشیں ہوں گی جس کی وجہ سے (پانی کی دستیابی کی ) صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے‘۔

اجمل شاد نے بتایا کہ ان کے محکمے نے وفاقی اور چاروں صوبائی حکومتوں کو اس صورتحال سے آگاہ کر دیا ہے اور پانی کے محتاط استعمال کا مشورہ دیا ہے۔