ویب سائٹس پر پابندی جائز، دفترِ خارجہ

دفترِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق سوئیڈن نے اسلام آباد میں اپنا سفارتخانہ بند نہیں کیا بلکہ عوامی خدمات معطل کی ہیں پاکستان کےدفترِ خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے سماجی تعلق کی ویب سائٹ فیس بک پر پیغمرِ اسلام کے خاکوں کی اشاعت کی مذمت کرتے ہوئے متعلقہ ویب سائٹس پر پابندی کو جائز قرار دیا ہے۔

جمعرات کو بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ پیغمبرِ اسلام کے خاکوں کی اشاعت سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں اور پاکستان اقوام متحدہ اور اسلامی ممالک کی تنظیم سمیت دیگر عالمی فورمز پر یہ معاملہ اٹھایا ہے اور آئندہ بھی اٹھائے گا۔

انہوں نے کہا کہ خاکوں کی اشاعت سے دنیا میں بین المذاہب ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوششوں کو سخت نقصان پہنچےگا۔ ’پاکستان او آئی سی کے انسانی حقوق کے رابطہ کار کے طور پر جنیوا میں انسانی حقوق کی کونسل اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں یہ معاملہ اٹھا چکا ہے ۔۔ جس کا مقصد اسلام کا حلیہ بگاڑنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنا ہے‘۔

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اظہار رائے کی آزادی کے لبادے میں پیغمبر اسلام کے خاکوں کی اشاعت کا نوٹس لیں اور اس کی اشاعت روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ ’ہم دو طرفہ سطح پر مختف ممالک کے ساتھ ایسے اقدامات جس سے مذہبی اور نسلی نفرت پیدا ہو اور دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری ہوتی ہے، ان پر پابندی کی بات کرتے رہے ہیں‘۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سوئیڈن نے اسلام آباد میں اپنا سفارتخانہ بند نہیں کیا بلکہ عوامی خدمات معطل کی ہیں۔

جب ان سے پوچھا کہ جن ممالک کے شہری خاکوں کی اشاعت میں ملوث ہیں ان کے سفیروں کو بلا کر پاکستان احتجاج کیوں نہیں کر رہا تو انہوں نے کہا کہ ’ہم متعلقہ ممالک کے سفارتکاروں سے یہ معاملہ اٹھاتے رہے ہیں اور آئندہ بھی دو طرفہ بنیاد پر یہ معاملہ اٹھائیں گے‘۔

فیس بک پر پابندی کے متعلق پاکستان میں بسنے والے عیسائی مذہب کے لوگوں کے ممکنہ اعتراض کے بارے میں سوال پر عبدالباسط نے کہا کہ عیسائی برادری کے لوگوں میں بھی خاکوں کی اشاعت پر مسلمانوں جیسا ہی غصہ پایا جاتا ہے۔