نقشے ہمارے نہیں: زیرِ حراست امریکی نوجوان
مقدمہ پر کارروائی سرگودھا جیل کے اندر ہوئی ہے سرگودھا میں زیر حراست پانچ امریکی نوجوانوں نے پاکستان کے فوجی ہوائی اڈوں اور چشمہ بیراج کے نقشوں کی ملکیت سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ نقشے ایک ’سازش کے تحت انہیں انہیں پھنسانے کے لیے پولیس نے مال مقدمے کا حصہ بنائے ہیں‘۔
سرگودھا میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے ملزموں کے اس نئے بیان کو ریکارڈ کا حصہ بنانے کی ہدایت کی ہے۔
سرگودھا کی ڈسٹرکٹ جیل میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پولیس نے وہ تمام سامان پیش کیا جو پولیس کے بقول ان پانچوں ملزموں کی تحویل سے برآمد ہوا تھا۔
وکیل صفائی بیرسٹر حسن کچیلا نے لاہور میں بی بی سی کے نامہ نگار علی سلمان سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مال مقدمہ عدالت میں پیش کرنے کی درخواست گذشتہ سماعت پر کی گئی تھی۔
اس مال مقدمے میں ایک ملزم عمر کے سوا دیگر تمام چاروں کے ریٹرن ٹکٹ اور سفری دستاویزات شامل تھیں۔وکیل صفائی نے کہا کہ عمر شادی کے بعد پاکستان میں ہی رہنا چاہتا تھا جبکہ باقی چاروں دوست اس کی شادی میں شرکت کے لیے آئے تھے۔وکیل صفائی نے کہا کہ ملزمو ں نے اپنے وہ نئے کپڑے بھی عدالت کو دکھائے جو وہ عمر کی شادی کی تقریبات کے مختلف دنوں میں پہننا چاہتے تھے ۔ملزموں نے عدالت سے درخواست کی ان نکات کو خاص طور پر ریکارڈ کا حصہ بنالیا جائے۔
وکیل صفائی کے بقول ملزموں نے میانوالی اور سرگودھا کے فوجی ہوائی اڈوں ، چشمہ بیراج کے نقشوں اور جہادی لٹریچر پر مبنی سی ڈیز کیسٹس اور تحریری مواد سے لاتعلقی ظاہر کی اور کہا کہ یہ پولیس نے ’انہیں پھنسانے کے لیے ایک سازش کے تحت ان کیا ملکیت ظاہرکی ہے‘۔
وکیل صفائی نے بتایا کہ عدالت نے ملزموں کو بیانات کو ریکارڈ کا حصہ بنالیا ہے اور اب اگلی سماعت نو جون کو متوقع ہے۔
واضح رہے کہ یہ پانچوں امریکی نوجوان چند مہینے پہلے پاکستان کے شہر سرگودھا میں گرفتار ہوئے تھے ۔ان پر الزام عائد کیاگیا ہے کہ وہ امریکہ اور پاکستان مخالف پرتشدد کارروائیوں میں حصہ لینے کی نیت سے پاکستان آئِے تھے۔


















