صورتحال تشویشناک: پاکستان

پاکستان نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں نافذ ’کالے‘ قوانین کا خاتمہ کرے اور ایسے اقدامات کرے جن کے نتیجے میں کشمیر کی بگڑتی صورتحال پر قابو پایا جا سکے۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان عبدالباسط کا کہنا ہے کہ پاکستان کو کشمیر میں انسانی حقوق کے حوالے سے شدید تشویش ہے۔
بی بی سی اردو کے ہارون رشید سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ہمیں انسانی حقوق کے حوالے سے جو حالات ہیں ان پر تشویش ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ وہاں حالات بہتر ہوں‘۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ ’اس سلسلے میں وہاں پر نافذ کالے قوانین جن میں آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ اور ڈسٹربڈ ایریاز ایکٹ جیسے قوانین شامل ہیں انہیں منسوخ کر دینا چاہیے‘۔
بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے عبدالباسط نے کہا کہ ’یہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے، حقِ خودارادیت کا مسئلہ ہے اور اسی سے دیگر مسائل جنم لیتے ہیں۔ اس مسئلے کی جڑ پر بھی نظر رکھنی چاہیے اور اسے بھی حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کی خواہش ہے کہ بھارت کشمیر کی موجودہ صورتحال سے احسن طریقے سے نمٹنے اور ایسے اقدامات کرے کہ صورتحال مزید نہ بگڑے‘۔ انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ زیرِ حراست کشمیری رہنماؤں کو فوری طور پر رہا کر دے۔
ماہِ رواں میں پاک بھارت خارجہ سیکرٹریز کی ملاقات کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ ’ہم پندرہ جولائی کی ملاقات کو مثبت انداز سے دیکھ رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس ملاقات کے نتیجے میں پائیدار امن مذاکرات کا سلسلہ شروع ہو جائے‘۔
خیال رہے کہ بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں گزشتہ ماہ فوج کے ہاتھوں فرضی جھڑپ میں تین شہریوں کی ہلاکت اور انہیں شدت پسند قرار دیے جانے پر پوری وادی میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ ان مظاہروں کے دوران اب تک ایک پچیس سالہ خاتون سمیت اُنیس افراد مظاہرین کے خلاف پولیس یا نیم فوجی دستوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوچکے ہیں۔ بیشتر اموات نیم فوجی دستوں کے ہاتھوں ہوئی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس عوامی احتجاج کو دبانے اور کرفیو کے باوجود ہنگاموں کو روکنے میں پولیس اور نیم فوجی ملیشیاء کی ناکامی کے بعد بدھ کی صبح سرینگر اور دوسرے حساس قصبوں میں فوج طلب کر لی گئی ہے۔




















