کشمیر واپس وہیں پہنچ گیا

    • مصنف, نعیمہ احمد محجور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

کشمیر میں جون سے اب تک تقریباً انیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور کئی روز سے کرفیو جاری ہے۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں جس تیزی سے حالات بدل رہے ہیں اس کو دیکھتے ہوئے بھارت کے ایوانوں میں ہلچل سی مچی ہوئی ہے، کیونکہ اس بار حالات نہ مسلح تحریک کی وجہ سے خراب ہورہے ہیں اور نہ آزادی پسند رہنماؤں کے اکسانے پر۔ عوام خود سڑکوں پر نکل رہے ہیں۔

گیارہ جون سے پولیس اور نیم فوجی دستوں کے ہاتھوں ہلاکتوں کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ اب بھی جاری ہے اور عوام مشتعل ہوکر سڑکوں اور گلی کوچوں میں ماتم کر رہے ہیں۔ لوگ اتنے مشتعل ہیں کہ کوئی کرفیو کی پرواہ نہیں کرتا اور بظاہر نہ کسی کوگولیوں کا خوف ہے۔

حکمران جماعت نیشنل کانفرنس نے تقسیم ہند کے بعد چند برسوں کو چھوڑ کر ریاست پر ہمیشہ حکمرانی کی ہے اور بیشتر مرتبہ اس کے دور میں حالات خراب ہوئے ہیں، حالانکہ ایک زمانے میں یہ سب سے مقبول ترین سیاسی جماعت تھی اور اسی کی قیادت میں کشمیریوں کو مہاراجوں سے آزادی ملی تھی۔

ریاستی وزیر اعلی عمر عبداللہ کی حکومت سے بھارت نے کافی امیدیں وابستہ کی تھیں اور خیال یہ تھا کہ وہ کشمیری نوجوانوں کو ’قومی دھارے‘ میں لاکر علیحدگی پسند جذبات کو کسی حد تک کم کرنے میں کامیاب ہونگے، یا کم از کم دنیا کو یہ پیغام ملے گا کہ کشمیری نوجوان کے ہاتھوں میں حکومت سونپ کر بھارت نے کشمیر میں جمہوری عمل کو تقویت دی ہے۔ مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ عمر عبداللہ کے اقتدار میں آنے کے بعد حکومت بھارت نے نہ ان کی بات سنی اور نہ کچھ کرنے کا زیادہ موقع دیا بلکہ اُسی طریقے سے اُن کے سر پر سوار رہی جس طرح اُن کے والد فاروق عبداللہ اور ان کے دادا شیخ عبداللہ پر رہتے تھے اور بقول کشمیریوں کے بھارتی آئین میں کشمیر کو دی جانی والی اندرونی خود مختاری پر بھی شب خون مارتی رہی۔ اسی احساس کو بھارت کے خلاف کشمیر میں نفرت کی ایک بڑی وجہ تصور کیا جاتا ہے۔ بیشتر کشمیری مبصرین کا خیال ہے کہ اندرونی خودمختاری پر بھارت کا پہلا وار انیس سو تریپن میں ہوا جب بھارت نواز رہنما شیخ عبداللہ کو گرفتار کرلیا گیا۔

انیس سو ستاسی میں عمر عبداللہ کے والد فاروق عبداللہ کے ساتھ راجیو گاندھی کی کانگریس کے اتحاد کے بعد بڑے پیمانے پر انتخابی دھاندلیوں کے الزامات لگے، جس کے نتیجے میں مسلح تحریک کا آغاز ہوا۔ اس کے بعد نیشنل کانفرنس نے اپنی ساکھ بچانے کی خاطر اندرونی خودمختاری کی رپورٹ تیار کرکے حکومت بھارت کو کئی بار بھیجی مگر اس کی اپنی اتحادی جماعت نے ہی رپورٹ مسترد کرکے واپس بھیجی۔

نیشنل کانفرنس اس بار بھی انتخابات میں اندرونی خودمختاری کا نعرہ دے کر کانگریس کے سہارے اقتدار میں آگئی مگر عمر عبداللہ پر دباؤ بدستور قائم ہے کہ زیادہ بولنے کی صورت میں کانگریس کے پاس حمایت واپس لینے کا آپشن ہمیشہ موجود ہے۔ شاید اس لیے مبصرین سمجھنے سے قاصر ہیں کہ دلی کے اجلاس میں عمر عبداللہ کے بجائے ریاست کے گورنر کیوں شرکت کر رہے ہیں اور ریاست کے حالات بہتر کرنے میں عمر عبداللہ کی حکومت کو دلی سے گورنر کے ذریعے پیغامات کیوں موصول ہوتے ہیں۔خود کئی بار ریاستی حکمرانوں نے اقتدار چھوٹ جانے کے بعد اِس کا اظہار کیا ہے۔

بھارتی حکومت کو یقین ہے کہ عمر عبداللہ کشمیر کے دوسرے نوجوانوں کی طرح ’گمراہ‘ نہیں ہیں اور وہ ریاست کا بھارت کے ساتھ الحاق کو مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہونگے لیکن حکومت بھارت کو یہ اُمید نہیں تھی کہ وہ اتنے غیر موثر اور اتنے غیر فعال ثابت ہوجائیں گے کہ وہ کشمیر کو اسی موڑ پر واپس پہنچا دیں گے جہاں سے مسلح تحریک کا آغاز ہوا تھا۔