افغانستان کی خواتین کا خوف، مایوسی اور تھوڑی سی امید

Women walking on a road

،تصویر کا ذریعہGetty Images

20 سال پہلے طالبان کے اقتدار کا پہلا دور عورتوں کے خلاف بے رحمانہ سلوک جیسے سر قلم کرنا، سنگسار کرنا اور برقع پہننے پر مجبور کرنے جیسے احکامات سے جانا جاتا ہے۔ طالبان کی اُس حکومت کے خاتمے کے بعد، افغان خواتین نے ترقی کی کئی منازل طے کیں۔۔ وزیر، میئر، جج اور پولیس افسر بنیں۔ اب انھیں ایک غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔ پانچ خواتین نے بی بی سی کو مستقبل سے متعلق اپبے خدشات کے بارے میں بتایا ہے۔

'جدوجہد اور قربانی کی ضرورت ہے'

ایک اعلیٰ عہدیدار کے ساتھ انٹرویو کے لیے بیٹھی ایک خاتون صحافی دنیا کے بیشتر حصوں میں شاید ہی خبر بنے۔

لیکن طالبان کی خواتین اور لڑکیوں کے خلاف جبر کی وحشیانہ تاریخ کو دیکھتے ہوئے، بہت سے لوگ اس وقت حیران ہوئے جب ان کے ایک اعلیٰ عہدیدار، مولوی عبدالحق ہمد نے طلوع نیوز کی اینکر بہشتا ارغند کو انٹرویو دینے پر رضامندی ظاہر کی۔

منگل کو اس انٹرویو نے ایک اور روایت کو توڑ دیا: یہ پہلا موقع تھا جب کسی طالبان رہنما نے کسی ٹی وی سٹوڈیو میں ایسا کیا۔ لیکن ان ظاہری رعایتوں کے باوجود،ارغند اب بھی شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔

طالبان رہنما اور صحافی

،تصویر کا ذریعہArrangement

،تصویر کا کیپشنیہ پہلی مرتبہ تھا کہ ایک طالبان رہنما سٹوڈیو میں آئے اور ایک افغان خاتون صحافی سے بات کی

انھوں نے بعد میں بی بی سی کو بتایا ’وہ کہتے ہیں ’ہمیں افغان خواتین کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ہم ان کے کام کی حمایت کرتے ہیں‘... لیکن میں ڈرتی ہوں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ کابل اور ان کے سٹوڈیو کا ماحول بدل گیا ہے۔ وہ اب اپنے مہمانوں کے ساتھ متنازعہ مسائل کے بارے میں آزادانہ گفتگو نہیں کرتیں۔ وہ احتیاط سے اپنے الفاظ کا انتخاب کرتی ہیں۔

’ایک یا دو مہینے کے بعد طالبان ہمارے لیے کچھ قوانین بنائیں گے۔ میں سمجھتی ہوں کہ وہ ہمیں وہ سب نہیں کرنے دیں گے جو ہم چاہتے ہیں۔ وہ آزاد رہنا مشکل بنا دیں گے۔

’ابھی وہ کوئی رد عمل ظاہر نہیں کرتے لیکن ہمیں محتاط رہنا چاہیے۔ میں بہت محتاط ہوں۔‘

1990 کی دہائی کے آخر اور 2000 کی دہائی کے اوائل میں، اس گروپ نے شریعت یا اسلامی قانون کی سخت تشریح کے تحت افغانستان پر حکومت کی اور ٹیلی ویژن، موسیقی اور سنیما پر پابندی لگا دی تھی۔ ان کی حکومت ختم ہونے کے بعد کے برسوں میں درجنوں ٹی وی نیٹ ورک اور 170 سے زیادہ ایف ایم ریڈیو سٹیشن قائم ہوئے۔

طالبان کے اقتدار میں واپسی کے تناظر میں کچھ ٹی وی چینلز نے خبریں پڑھنے والی خواتین کو سکرین سے ہٹا دیا ہے اور یہاں تک کہ سیاسی پروگراموں کو اسلام کے متعلق مباحثوں کے پروگراموں سے تبدیل کر دیا ہے۔

چونکہ طالبان کی جانب سے ابھی تک کوئی کارروائی عمل میں نہیں آئی، بہت سے چینلز معمول کے شیڈول پر واپس آ گئے ہیں۔

ایک حالیہ پریس کانفرنس میں طالبان نے، جو اب چار کروڑ سے زیادہ افراد پر حکومت کر رہے ہیں، یہاں تک کہا کہ خواتین کو ’اسلامی قانون کے دائرے میں‘ کام کرنے اور تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

لیکن منگل (17 اگست) کو ایک دوسری نیوز اینکر خدیجہ امین نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ طالبان نے ریاستی ٹی وی کمپنی سے انھیں اور دیگر خواتین عملے کو معطل کر دیا ہے۔

ارغند

،تصویر کا ذریعہBBC

،تصویر کا کیپشنارغند کو خدشہ ہے کہ طالبان کے دور میں ازادانہ صحافت کرنا مشکل ہوگا

لیکن کئی جگہوں پر طالبان نے خواتین کو کام پر جانے سے روک دیا ہے۔ کچھ خواتین نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ خوف کی وجہ سے کام پر نہیں جا رہی ہیں۔

ارغند کام پر واپس آئیں کیونکہ انھیں لگا کہ اس ایک انتہائی نازک موڑ پر نیوز روم میں رہنے کی ضرورت ہے۔

’میں نے اپنے آپ سے کہا، جاؤ۔۔۔ یہ افغان عورتوں کے لیے بہت اہم وقت ہے۔‘

دفتر جاتے ہوئے انھیں طالبان جنگجوؤں نے روکا اور ان سے پوچھا کہ وہ اکیلے کیوں سفر کر رہی ہیں اور شریعت کے مطابق ان کے ساتھ کوئی مرد رشتہ دار نہیں ہے۔

’ہماری صورتحال اچھی نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ افغانستان کی خواتین کے لیے اچھا وقت نہیں ہے۔ مگر آنے والی نسلوں کے فائدے کے لیے جدوجہد اور قربانی دینی پڑے گی۔‘

’یہ ان کے پچھلے دور جیسا نہیں ہے

Doctors in an Afghan hospital

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنافغانستان کے اکثر دیہی علاقوں میں طبی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں

ایک گائناکولوجسٹ جو ایک پرائیویٹ کلینک چلا رہی ہیں اور کابل میں ایک ہسپتال میں کام کرتی ہیں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی زندگی اس بھونچال کے باعث بالکل بھی متاثر نہیں ہوئی۔

انھوں نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’میں تین روز بعد کام پر آئی۔ اس وقت صورتحال معمول کے مطابق ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ طالبان نے اعلان کیا ہے کہ خواتین ڈاکٹر ہسپتالوں اور پرائیویٹ کلینک میں کام جاری رکھ سکیں گی۔

انھوں نے کہا کہ کچھ جگہوں پر طالبان لوگوں سے ڈیوٹی پر واپس آنے کا کہہ رہے ہیں لیکن اس وقت خوف کے ماحول کے باعث اکثر افراد کام پر نہیں آ رہے۔

’اکثر ڈاکٹر اور دائیاں ہسپتال نہیں آئیں کیونکہ وہ ڈر رہی ہیں اور وہ طالبان کے اعلان پر اعتبار نہیں کر پا رہیں۔‘

Afghan nurses showing their graduation certificate

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنافغانستان میں اب پہلے سے زیادہ تربیت یافتہ نرسیں ہیں لیکن خدشہ ہے کہ انھیں کام نہیں کرنے دیا جائے گا

افغانستان کے اکثر دیہی علاقوں میں طبی سہولیات محدود ہیں یا نہ ہونے کے برابر ہیں۔

ملک میں حاملہ خواتین کی اموات کو کم کرنے کے لیے نرسوں اور دائیوں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کا کہنا ہے کہ ’تمام حاملہ خواتین اور نوزائیدہ بچوں کی ماؤں کے پاس دائیوں اور ذچہ بچہ سے منسلک دیگر سہولیات حاصل کرنے کا حق موجود ہے۔‘

تاہم اس وقت کابل میں موجود گائیناکالوجسٹ خاصی پرامید ہیں۔ ہسپتال جاتے ہوئے انھوں نے گلیوں میں کم افراد کو پایا اور انھیں اکثر دکانیں بند بھی نظر آئیں لیکن طالبان نے انھیں روک کر ان کے کپڑوں کے بارے میں نہیں پوچھا۔ ’یہ ان کے پچھلے دور جیسا نہیں تھا۔ یہ اس سے کچھ بہتر ہے۔‘

’خواتین ایجنڈہ کا حصہ نہیں ہیں‘

Farzhana Kochai speaking in a conference

،تصویر کا ذریعہFarzhana Kochai

،تصویر کا کیپشنفرزانہ کوچائی نہیں جانتیں کہ آیا طالبان خواتین کو نئی حکومت میں شامل کریں گے یا نہیں

افغان پارلیمان میں موجود 250 نشستوں میں سے 27 فیصد خواتین کے لیے مختص ہیں اور اس وقت ملک میں 69 اراکینِ پارلیمان ہیں۔

تاہم طالبان رہنماؤں میں کوئی خاتون شامل نہیں ہے اور ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا وہ ایک مخلوط حکومت قائم کریں گے۔

رکن پارلیمان فرزانہ کوچائی کا کہنا ہے کہ ’ہمیں ان کے ایجنڈہ کے بارے میں علم نہیں ہے۔ ہمیں پریشانی اس بات کی ہے کہ وہ کبھی خواتین کے بارے میں بات نہیں کرتے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’ایسی حکومت جس میں خواتین شامل نہ ہوں اسے بین الاقوامی برادری اور سول سوسائٹی کی طرف سے ذمہ دار نہیں سمجھا جائے گا۔

’خواتین کو معاشرے سے نکالنا نہیں چاہیے۔ ہمیں حکومت میں اپنا کام جاری رکھنا چاہیے اور اس کے علاوہ بھی جہاں بھی ہم چاہیں۔‘

Farzhana Kochai in parliament

،تصویر کا ذریعہFarzhana Kochai

،تصویر کا کیپشنافغان پارلیمان میں موجود 250 نشستوں میں سے 27 فیصد خواتین کے مختص ہیں اور اس وقت ملک میں 69 اراکینِ پارلیمان ہیں

تاہم وہ اس وقت واضح تبدیلیوں کو دیکھ کر خاصی غیر مطمئن دکھائی دیتی ہیں، جیسے سڑکوں پر خواتین میں کمی حالانکہ وہ یہ جانتی ہیں کہ بعض خواتین پڑھائی اور کام کرنے کے لیے دفاتر میں جا رہی ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’ایسا نہیں ہے کہ تمام خواتین خوف سے گھر میں بند ہو کر بیٹھ گئی ہوں۔‘

’لیکن خواتین معاشرتی، ذہنی، اور سیاسی اعتبار سے بدل چکی ہیں۔ ہم میں سے اکثر چھپ رہے ہیں۔ ہم سوشل میڈیا پر بھی نہیں آ سکتے، اپنی نوکریاں نہیں کر سکتے، اپنے گھروں سے باہر نہیں جا سکتے۔‘

وہ کہتی ہیں ’خواتین کابل میں بڑی تعداد میں برقعے خرید رہی ہیں۔ ٹی وی سکرینز پر بھی ہمیں خواتین کی کم تعداد دکھائی دے رہی ہے۔ اور ہمیں ان کی دوسری جگہوں پر بھی یاد آتی ہے۔‘

طالبان کی جانب سے اقتدار سنبھالنے سے پہلے بھی کوچائی کو مسلح گروہوں کی جانب سے دھنکیاں مل رہی تھیں۔ اکثر ایسی خواتین سیاست دان جو شدت پسندی پر تنقید کرتی ہیں، وہ بھی چھپ رہی ہیں۔

ظریفہ غفاری جو 26 سال کی عمر میں ملک میں کم عمر ترین میئر بنی تھیں کہتی ہیں کہ انھیں طالبان کی جانب سے کسی بھی وقت قتل کیا جا سکتا ہے۔

ظریفہ نے برطانوی اخبار دی انڈیپینڈینٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں یہاں بیٹھی ان کا آنے کا انتظار کر رہی ہوں۔ اس وقت میری یا میرے خاندان کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ میں اس وقت اپنے خاندان اور شوہر کے ساتھ بیٹھی ہوں۔ اور وہ مجھ جیسے لوگوں کی تلاش میں آئیں گے اور مجھے مار دیں گے۔‘

’میں ان پر اعتبار نہیں کروں گی‘

افغان طالبات

،تصویر کا ذریعہGetty Images

افغان ٹیچر اور انسانی حقوق کی کارکن پشتانہ درانی کا کہنا ہے کہ طالبان خواتین کی حقوق کے حوالے سے جو کہتے ہیں اور جو کرتے ہیں ان دو چیزوں میں بہت فرق ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اسلام پسند گروہ سے اس بات کی وضاحت چاہتی ہیں کہ ان کے نزدیک خواتین کے کون سے حقوق قابلِ قبول ہیں۔ کیونکہ ان کی جانب سے ماضی میں خواتین کو برقعہ پہننے کا پابند کیا گیا تھا اور 10 سال سے زیادہ عمر کی لڑکیوں کے سکول جانے پر پابندی لگائی گئی تھی۔

انھوں نے کہا کہ وہ قتل کیے جانے کے خوف کے باوجود آواز بلند کر رہی ہیں۔

’مجھے آج لڑنا ہو گا تاکہ میری اگلی نسل کو تنازع کا سامنا نہ کرنا پڑے۔‘

ان کا مزید کہنا ہے کہ طالبان رہنما خواتین کے حقوق کے بارے میں خاصی غیر واضح باتیں کرتے ہیں لیکن سڑکوں پر موجود جنگجو گذشتہ کچھ دنوں سے روایتی رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔

’ہرات میں لڑکیاں یونیورسٹی نہیں جا پا رہیں جبکہ قندھار میں بینک میں کام کرنے والی لڑکیوں کو گھر بھیجا گیا اور ان کی جگہ ان کے رشتہ داروں سے کام پر آنے کا کہا گیا ہے۔‘

’وہ مختلف ممالک سے اپنی حکومت کی حیثیت تسلیم کرانے کے لیے رابطے کر رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ اصل میں کیا کر رہے ہیں۔‘

’یا تو ان کا اپنے جنگجوؤں پر کنٹرول نہیں ہے یا انھیں واقعی حیثیت تو تسلیم کروانی ہے لیکن وہ کام کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یہ دو مختلف باتیں ہیں۔‘

پشتانہ درانی اس بات پر سوال اٹھا رہی ہیں کہ جب طالبان ’خواتین کے حقوق‘ کی بات کرتے ہیں تو ان کی اس سے کیا مراد ہوتی ہے۔

پشتانہ درانی

،تصویر کا ذریعہBBC

،تصویر کا کیپشنپشتانہ درانی اس بات پر سوال اٹھا رہی ہیں کہ جب طالبان 'خواتین کے حقوق' کی بات کرتے ہیں تو ان کی اس سے کیا مراد ہوتی ہے

وہ پوچھتی ہیں کہ ’کیا ان کا مطلب اپنی مرضی سے گھومنے پھرنے کی آزادی، سیاسی حقوق، ان کے نمائندہ حقوق یا ووٹنگ حقوق ہیں؟‘

جرمنی کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان کو دی جانے والی تمام امداد روک دے گا اگر خواتین کے حقوق کی حفاظت یقینی نہ بنائی گئی۔ کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان خواتین کو مزید آزادی دیں گے تاکہ وہ عالمی رہنماؤں کی حمایت حاصل کر سکیں۔

درانی جنھیں اپنے کام کے عوض ملالہ فنڈ ایجوکیشن چیمپیئن ایوارڈ دیا جا چکا ہے، مانتی ہیں کہ اگر طالبان لڑکیوں کے سکول جانے پر پابندی عائد کرتے ہیں تو لڑکیوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے تعلیم حاصل کرنی ہو گی۔

انھیں اس بات کا بھی ڈر ہے کہ طالبان کی جانب سے سکولوں میں پڑھائے جانے والے مضمون بھی تبدیل کیے جا سکتے ہیں۔

وہ پوچھتی ہیں کہ ’کیا لڑکیاں عام نصاب ہی پڑھیں گی یا انھیں صرف اسلامک سٹڈی ہی پڑھائی جائے گی جو ہر افغان ویسے پڑھتا ہے۔‘

’میں ان پر اس حوالے سے کبھی بھی اعتبار نہیں کروں گی۔‘

یہ بھی پڑھیے

’مجھے صرف آزادی چاہیے‘

افغانستان کے دارالحکومت میں ایک نوجوان کاروباری خاتون جو اپنی شناخت چھپانے کے لیے فرضی نام آزادا استعمال کرتی ہیں انھیں بھی طالبان کے وعدوں پر شک ہے۔

’آزادا کا مطلب ہے آزاد۔ مجھے صرف آزادی چاہیے۔ اس لیے میں نے اس نام کا انتخاب کیا۔‘

وہ نئے حاکمموں سے خائف ہیں اور ان کا ایک سادہ سا مطالبہ ہے کہ ’مجھے ایک نئی حکومت چاہیے جس میں تمام افغان ہوں۔ طالبان، مزاحمتی گروپ، نارمل گروپ، تمام مذاہب کے افراد۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ہمارا ایک نیا ملک اور نیا مستقبل ہو گا۔ شاید ایک تابناک مستقبل۔‘

An Afghan shop with a buyer and seller

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنخواتین کے کاروبار کا مستقبل غیر یقینی ہے

تاہم اس وقت حقیقت میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ خاصا اداس کر دینے والا ہے۔ آزادا کو ابھی سے معاشی آزادی کھونی پڑ رہی ہے کیونکہ ان کا کاروبار بند ہے اور جہاں اکثر افراد ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں آزادا کا کہنا ہے کہ وہ ایسا نہیں کر سکتیں۔

طالبان کی ماضی کی حکومت کی یادیں انھیں ابھی بھی صدمہ پہنچاتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ خواتین کے ساتھ جارحانہ رویہ روا رکھتے تھے اور انھیں اب بھی ان سے اچھے کی امید نہیں ہے۔

وہ وضاحت کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’انھوں نے اپنے کپڑے، بال، داڑھی تک نہیں بدلی، وہ اپنے خیالات کیسے بدل سکتے ہیں؟ میں ایسی افواہوں پر یقین نہیں رکھتی۔‘

وہ کہتی ہیں کہ اگر طالبان خواتین اور دیگر نسلی گروہوں کو حکومت کا حصہ نہیں بناتے تو تشدد کا ایک نیا دور شروع ہو گا۔

’مجھے لگتا ہے کہ جنگ ہو جائے گی۔ اگر ہم لڑے نہیں تو ہم سلامت نہیں رہ پائیں گے۔ میں ان لوگوں میں سے ایک ہوں گی۔ شاید میری جان چلی جائے مگر یہ بھی ٹھیک ہے۔ مجھے بہادر ہونا ہوگا۔ میں افغانستان سے بھاگ نہیں سکتی۔ یہی واحد راستہ ہے۔‘