’خواتین کے مقابلے میں مرد کھلاڑیوں کا دم زیادہ گھٹتا ہے‘

ایک نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ خواتین کھلاڑیوں کے مقابلے میں کھیل کے دوران مشکل صورتحال میں مردوں کا ’دم زیادہ گھٹتا‘ ہے۔

اسرائیل میں بین گوریئن یونیورسٹی (بی گی یو) کے محققین نے ٹینس کے گرینڈ سلیم مقابلوں کا تجزیہ کیا تاکہ یہ جان سکیں کہ ’دباؤ کے صورتحال سے مرد اور خواتین کیسے نمٹتے ہیں‘۔

اس پر ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری تحقیق سے یہ پتا چلا ہے کہ کھیل کے دوران دباؤ کی صورتحال میں مردوں کا دم بار بار گھٹ رہا تھا۔‘

بی جی یو کے ڈاکٹر موزی روزینبوئم کا کہنا تھا کہ ’خواتین کے حوالے سامنے آنے والے نتائج ملے جلے رہے۔‘

’اگر خواتین کی میچ کے ایک اہم موقع پر کارکردگی خراب بھی ہو جائے تو بھی یہ مردوں کے مقابلے میں 50 فیصد کم دم گھٹتا ہے۔‘

اس تحقیق کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ کسی بھی عام میچ کی نسبت بڑے انعامی رقم والے میچ میں ’دم گھٹنا‘ یعنی کارکردگی کا گرنا زیادہ دیکھا جاتا ہے۔

محققین کو امید ہے کہ ان کی اس تحقیق سے ’لیبر مارکیٹ کو جاننے میں مدد ملے گی‘ اور یہ دیکھا جا سکے گا کہ مثال کے طور پر تنخواہ کے معاملے پر جنس کیا کردار ادا کرتی ہے۔

ڈاکٹر ڈینی کوہن زاڈا کا کہنا ہے کہ ’ہماری یہ تحقیق اس موجودہ بحث کی بالکل حمایت نہیں کرتی جس میں خواتین کو مردوں کی نسبت کم پیسے ملنے پر بات ہو رہی ہے۔‘

محققین کا کہنا ہے کہ ان کی معلومات ’ہم جنس پر مبنی ہے، یعنی کہ مردوں کا مقابلہ مردوں کے ساتھ اور خواتین کا مقابلہ خواتین کے ساتھ۔‘

ڈاکٹر ایلکس کرومر کا کہنا ہے کہ ’لیبر مارکیٹ میں خواتین کو الگ طرح کے طریقۂ کار میں کام کرنا ہوتا ہے مثال کے طور پر ان کا مقابلہ مردوں کے ساتھ ہوتا ہے۔‘

یہ تحقیق 4127 خواتین اور 4153 مردوں کے ٹینس مقابلوں کی بنیاد پر کی گئی ہے۔