'پیرس معاہدے پر قائم رہنا انتہائی ضروری ہے'

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے کہا ہے کہ دنیا کے لیے 'انتہائی ضروری' وہ ماحولیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے خطرے کا سامنا کرنے کے لیے متحد ہو جائے۔

نیو یارک میں بات کرتے ہوئے انتونیو گوتیرس نے کہا کہ اگر کسی ملک کو 2015 میں طے کیے جانے والے پیرس معاہدہ پر شکوک ہیں، دوسرے ممالک پر لازم ہے کہ وہ اس پر ڈٹے رہیں۔

پانچ ماہ قبل سیکریٹری جنرل کا عہدہ سنبھالنے والے انتونیو گوتیرس کا ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے یہ پہلا اہم پیغام تھا۔

نیو یارک یونیورسٹی میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا 'اگر کسی ملک کی حکومت کو لگتا ہے کہ دنیا کو اس معاہدے کی ضرورت نہیں ہے، تو دوسرے ملکوں پر لازم ہے کہ وہ متحد رہیں اور اپنے موقف پر ڈٹے رہیں۔'

انتونیو گوتیرس کے مطابق ان کا پیغام بہت سادہ ہے۔ 'یہ دنیا تباہی کے دہانے پر ہے اور یہ انتہائی ضروری ہے کہ تمام ملک پیرس معاہدے پر عمل کریں۔'

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سات امیر ترین ملکوں کی تنظیم جی سیون کے دوسرے رہنماؤں کے برعکس پیرس معاہدے کی حمایت کرنے سے انکار کر دیا ہے اور بہت جلد وہ اس معاملے پر امریکہ کا موقف طے کریں گے۔

اس سے پہلے بھی صدر ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ گلوبل وارمنگ ایک دھوکہ ہے جسے چین نے بنایا ہے اور انھوں نے پیرس معاہدے سے منحرف ہونے کی دھمکی بھی دی ہے۔

140 سے زائد ممالک، بشمول امریکہ، نے پیرس معاہدے کی تجدید کی ہے لیکن صدر ٹرمپ نے اپنی صدارتی مہم کے دوران اس کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ امریکہ کی معیشت کے لیے نقصان دہ ہے۔