ہالیجی جھیل نکاسی آب سے متاثر

- مصنف, مختار آزاد
- عہدہ, کراچی
طائر بینوں کی جنت کہلانے والی ہالیجی جھیل میں تازہ پانی نہ رہا۔ جس کے سبب آبی خوراک کم ہوئی اور پھر کئی سال پہلے پرندے یہاں سے اپنا منہ موڑ گئے ۔ اب قریب سے گزرنے والے نکاسی آب کے بڑے قومی منصوبے اور تازہ پانی کی عدم فراہمی نے عالمی سطح پر محفوظ قرار دی گئی اس جھیل کو سست رو موت سے دوچار کردیا ہے۔
ستر کی دہائی میں پاکستان کی جن نو اولین آب گاہوں کو رامسر کنوینشن کے تحت محفوظ آب گاہ کا عالمی درجہ دے کر ان کے تحفظ کو یقینی بنانے کا وعدہ پاکستان نے معاہدے پر دستخط کرکے کیا تھا ہالیجی جھیل ان میں سے ایک ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتِ حال کے پیشِ نظر اس بات کا خدشہ پیدا ہوچکا ہے کہ ہالیجی جھیل جلد یا بدیر قصہ پارینہ بن کر رہ جائے گی۔ کئی دہائیوں قبل جب ڈیوک آف ایڈنبرا شہزادہ فلپ نے ہالیجی جھیل کا دورہ کیا تو یہاں بدیسی پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ دیکھ کر انہوں نے اسے طائر بینوں کی جنت سے تعبیر کیا تھا، مگر گزشتہ چند برسوں سے اب یہاں پر بمشکل چند سو بدیسی پرندے ہی موسمِ سرما میں پڑاؤ ڈالتے ہیں۔
ہالیجی جھیل کراچی سے 80 کلو میٹر دور قومی شاہراہ پر واقع ہے جسے دوسری جنگِ عظیم کے دوران برطانوی حکام نے محفوظ ذخیرۂ آب کے طور پر تعمیر کیا تھا۔ لگ بھگ بائیس ہزار ایکڑ پر مشتمل جھیل کا قطر اٹھارہ کلومیٹر ہے۔ ہالیجی جھیل پر کبھی موسمِ سرما میں لاکھوں پرندے ہجرت کرکے عارضی بسیرا کرتے تھے۔
یہاں پرندوں کی سوا دو سو کے قریب اقسام ریکارڈ کی گئی تھیں مگر اب یہاں بدیسی موسمی پرندے خال خال ہی نظر آتے ہیں۔ صاف پانی کی عدم فراہمی سے جھیل ایک طرف رفتہ رفتہ خشک ہورہی ہے تو دوسری جانب خود رو جھاڑیاں تیزی سے اسے اپنی لپیٹ میں لے رہی ہیں۔ تیسری جانب نکاسی آب کا منصوبہ اس کی حیات کے درپے ہے۔
آب گاہوں کے تحفظ کے لیے کیے گئے عالمی معاہدے رامسر کنوینشن کے ہیڈ کوارٹر، سوئٹزر لینڈ میں کئی برس تک خدمات سر انجام دینے والے ماہرِ آب گاہ ڈاکٹر نجم خورشید کا کہنا ہے کہ’ ہالیجی جھیل کا سب سے بڑا مسئلہ تازہ اور صاف پانی کی فراہمی ہے۔ جب سے کراچی کو ہالیجی کے بجائے کینجھر جھیل سے براۂ راست فراہمیِ آب کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے، تب سے ہالیجی جھیل کو تازہ پانی کی فراہمی موقوف کردی گئی۔ جس کی وجہ سے اس کا ٹھہرا ہوا پانی آلودہ ہوچکا اور گزشتہ پانچ چھ سالوں میں پانی کا معیار خوراک اور پڑاؤ کے حوالے سے پرندوں کے لیے سازگار نہ رہا۔ اس لیے اب پرندے بھی یہاں کا بہت کم ہی رخ کرتے ہیں۔‘
ہالیجی جھیل کے نگراں اور محکمہ جنگلی حیات سندھ کے افسر ممتاز شاہ اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’جھیل میں پانی کی سطح بائیس فٹ تک ہونی چاہیے۔ پانی کی فراہمی منقطع ہونے کے بعد اب پانی کی سطح آٹھ فٹ کے قریب رہ گئی ہے۔ جو کہ نہایت کم ہے‘۔
دریائے سندھ سے جھیل کو پانی کی فراہمی کے ذمہ دار محکمہ آب پاشی سندھ کے افسر اور چیف انجینئیر کوٹری بیراج منظور شیخ کا کہنا ہے کہ ’ہماری پہلی ترجیح کینجھر کو پانی کی فراہمی ہے، کیونکہ یہاں سے کراچی کو پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد زرعی شعبہ ہے۔ پانی کی قلت کے باعث ہالیجی کو پانی کی فراہمی ممکن نہیں ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ پاکستان میں تحفظِ ماحول کے لیے جھیلوں کو تازہ پانی کی فراہمی کے لیے تقسیمِ آب میں کوئی گنجائش موجودنہیں۔ ڈاکٹر نجم خورشید کے مطابق یہ مسئلہ ملک گیر سطح پر آب گاہوں کے تحفظ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
صرف تازہ پانی کی عدم فراہمی ہی نہیں، جھیل کے سر پر ایک اور خطرہ موت بن کر منڈ لا رہا ہے۔ ممتاز شاہ مزید بتاتے ہیں! ’واپڈا کے تحت دریائے سندہ کے بائیں کنارے پر واقع سندھ کے شہروں کا گنداب سمندر میں بہانے کے لیے رائٹ بینک آؤٹ فال ڈرین (آر بی او ڈی) نالے کی تعمیر اختتامی مرحلے میں ہے۔ اس کا وسیع عریض نالہ ہالیجی جھیل کی حدود سے گزرتا ہے۔ جس سے خدشہ ہے کہ کھودے گئے کچے نالے کے ذریعے مہلک گندے پانی کا نکاس شروع ہونے سےنالے کا رساؤ بھی شروع ہوجائےگا۔ جس سے جھیل کا میٹھا پانی شور زدہ گنداب کے رساؤ سے بدترین آلودہ ہوکر رفتہ رفتہ آبی حیات کے لیے مکمل طور پر ناموزوں ہوجائے گا‘۔
آر بی او ڈی کے اس نالے کی تعمیر اور طویل المعیاد مہلک اثرات کے بارے میں ماہرینِ ماحولیات کے تحفظات اپنی جگہ پر لیکن نالے کی تعمیر تیزی سے جاری ہے۔ کیا اس نالے کی تعمیر سے قبل پاکستان میں تحفظِ ماحولیات کے قوانین کے تحت ماحولیاتی اثرات کی جانچ کا عمل کیا گیا؟ محکمہ جنگلی حیات سندھ کےکنزرویٹر حسین بخش بھاگت کہتے ہیں کہ ’نالے کی تعمیر سے قبل محکمہ جنگلی حیات سندھ نے اس کے ممکنہ خطرناک اثرات کے حوالے سے واپڈا سے شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا مگر پھر بھی منصوبے پر کام جاری رہا۔ اب یقین ہوچلا ہے کہ جو خدشات تھے وہ درست ثابت ہوسکتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی حقیت ہے کہ اس طرح کے بڑے تعمیراتی منصوبوں کے حوالے سے قانون کے تحت ماحولیاتی اثرات کی جانچ لازمی ہے مگر اس معاملے میں ایسا نہیں کیا گیا۔ نیز ، ہالیجی کو قوانین کے تحت سنکچوری کا درجہ حاصل ہے اور اس کے قریب اس طرح کی تعمیرات تحفظِ جنگلی حیات کے قوانین کے بھی منافی ہے۔ ‘
بھاگت مزید کہتے ہیں کہ ’واپڈا سے درخواست کی گئی تھی کہ نالے کو اگر کم از کم پختہ تعمیر کیا جائے تو خطرات کم ہوسکتے ہیں، مگر ایسا نہیں ہوا‘۔ پاکستان میں بجلی و پانی کے ترقیاتی ادارے واپڈا کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ منصوبے پر خدشات شاید زیادہ غلط نہیں مگر یہ وفاقی حکومت کا کئی برس پر مشتمل منصوبہ ہے جو اب تکمیل پذیر ہو رہا ہے۔ ایسے میں نالے کے کسی خاص حصے کو پختہ کروانے کے لیے وفاقی حکومت سے رجوع کرنا چاہیے۔ ادارے کا کام صرف منصوبے کو مکمل کرنا ہے۔
لگ بھگ ڈھائی عشرے قبل دریائے سندھ کے دونوں کناروں سے گنداب کی نکاس کے لیے رائٹ بینک اور لیفٹ بینک آؤٹ فال ڈرین کی تعمیر کا منصوبہ سامنے آیا تھا، جسے تعمیراتی مرحلے میں شدید تنقید کا سامنا رہا اور اب بھی اسے متنازعہ خیال کیا جاتا ہے۔ 1994ء میں سندھ میں شدید طوفانی بارشوں کے بعد لیفٹ بینک آؤٹ فال ڈرین (ایل بی او ڈی) کے نکاسی کے نالوں میں بدین کے مقام سے سمندر کا پانی آجانے سے بدترین سیلابی کیفیت پیدا ہوئی تھی۔ نالوں ک ذریعے سمندر اور گنداب کا ملا جلا پانی واپس پلٹ آیا جس سے بدترین تباہی پھیلی۔ سانگھڑ میں بڑی حد تک زرعی زمینیں اپنی زرخیزی کھو بیٹھی تھیں۔
حسین بحش بھاگت کے مطابق ’سانگھڑ اور بدین کی کئی اہم جھیلیں بھی اس مہلک گندے پانی کا شکار ہو کر اپنا وجود کھو بیٹھی ہیں۔، اب آر بی او ڈی کی شکل میں ہالیجی کا مستقبل داؤ پر لگا نظر آتا ہے۔‘







