ہرشل، پلینک اکٹھے خلائی سفر پر

خلائی دوربینیں

یورپ کی خلائی دوربینیں ہرشل اور پلینک آخر کار کورو خلائی پورٹ میں اکٹھی ہیں جہاں سے ان کو سولہ اپریل کو مدار میں بھیجا جائے گا۔

یہ دونوں خلائی دوربینیں ایک مشترکہ پروگرام کے تحت تیار کی گئی ہیں اور ان کو تیار کرنے میں دس سال اور ایک اعشاریہ نو ارب یورو کی لاگت آئی ہے۔

ان دوربینوں کی کورو میں آمد سے یہ دونوں خلائی دوربینیں پہلی بار اکٹھی ہوئی ہیں۔

یورپی سپیس ایجنسی میں ہرشل اور پلینک پروجیکٹ کے مینیجر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’دونوں خلائی دوربینیں ہالینڈ میں ایک وقت میں اکٹھی تھیں لیکن ان دونوں کے درمیان میں دیوار حائل تھی اس لیے یہ پہلی بار ہے کہ یہ دونوں اکٹھی ہوئی ہیں۔ یہ بہت خوشی کی بات ہے کہ یہ دونوں ایک ساتھ ایک کمرے میں موجود ہیں۔‘

یہ خلائی دوربینیں اریان راکٹ کے ذریعے مدار میں بھیجی جائیں گی۔ ان کا مدار میں بھیجا جانا یورپ کی طرف سے سب سے مہنگا پروجیکٹ ہے جو کہ صرف سائنسی حوالے سے کیا جا رہا ہے۔

دونوں خلائی دوربینوں میں سے ہرشل بڑی ہے جس کی لمبائی سات میٹر ہے اور خلاء وہ اس بات کی تحقیق کرے گی کہ ستارے اور کہکشاں کیسے بنتے ہیں اور کیسے ان کی نشو و نما ہوتی ہے۔

دوسری طرف پلینک یہ تحقیق کرے گی کہ نظام کائنات کی تخلیق کیسے ہوتی ہے اور وہ ایسا کیوں نظر آتے ہیں۔

یہ دونوں خلائی دوربینیں اس وقت چیک کی جا رہی ہیں کہ کہیں دورانے سفر ان کو نقصان تو نہیں ہوا۔ ان کے حساس شیشے ڈھانپے ہوئے ہیں تاکہ آلودہ نہ ہو جائیں۔ ان پر چڑھائے گئے غلاف ان کا خلائی سفر شروع ہونے سے کچھ دیر پہلے اتارے جائیں گے۔

دوسری طرف ان خلائی دوربینوں کو تیار کرنے والی ٹیمیں واپس جا رہی ہیں۔ ہرشل کی تیاری میں ملوث برطانوی ٹیم کورو سے واپس آ گئی ہیں کہ ان کا کام مکمل ہو گیا ہے۔

چار میٹر لمبی پلینک دوربین اریان میں ہرشل کے نیچے ہو گی۔ یہ دونوں دوربینوں کو زمین سے خلاء کے سفر کے دوران محفوظ رکھنے کے لیے انتظامات کیے ہیں۔

ان خلائی دوربینوں کا مدار میں سفر اریان کے لے ایک اور تمغہ ہے کیونکہ اس سے قبل اریان زمین سے ڈیڑھ ملین کلومیٹر تک نہیں گیا۔