وسیع و عریض برفانی’شیلف‘ ٹوٹنے کو ہے

یورپی خلائی ادارے کی سیٹلائٹ تصاویر سے پتہ چلا ہے کہ برف کا ایک وسیع و عریض ٹکڑا انٹارکٹک سے علیحدہ ہونے کی کگر پر ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران ’ولکنز شیلف‘ کے نام سے پہچانے جانے والے اس ٹکڑے کو اردگرد موجود برفانی جزائر سے جوڑے رکھنے والے برفانی پلوں میں سے ایک ٹوٹ چکا ہے۔
’ولکنز شیلف‘ نوے کی دہائی سے اپنی جگہ سے حرکت کر رہا ہے لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ اسے اس کی جگہ پر قائم رکھنے والے رابطوں میں سے ایک ختم ہوگیا ہے۔سائنسدان عالمی حدت کو اس برفانی پل کے گرنے کی وجہ قرار دے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہو گا جب کوئی پورے کا پورا ’شیلف‘ ہی انٹارکٹک سے علیحدہ ہو جائے گا۔
برطانوی ماہرِ ارضیات ڈیوڈ وان کے مطابق ’یہ انتہائی حیران کن ہے کہ برف کیسے ٹوٹی ہے۔ دو دن قبل تک یہ پل صحیح سلامت تھا۔‘ انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم یہ جانتے ہیں کہ یہ(ولکنز شیلف) انیس سو تیس کی دہائی سے بالکل مستحکم تھا لیکن اس کے بعد اس نے انیس سو نوے کی دہائی کے اواخر میں حرکت شروع کر دیْ لیکن ہمیں شبہ ہے کہ یہ اس سے کہیں زیادہ عرصے تک مستحکم رہا ہے‘۔
وان کے مطابق ’اس کی دوبارہ حرکت اور اپنے جزائر سے اس کا تعلق ٹوٹنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے انٹارکٹک میں عالمی حدت کا اثر ایک اور برفانی شیلف پر پڑ رہا ہے‘۔
خیال رہے کہ یہ برفانی ٹکڑا چالیس کلومیٹر لمبا اور اپنی چوڑائی کے سب سے چھوٹے مقام پر بھی پانچ سو میٹر چوڑا ہے۔ یہ انٹارکٹک جزائر کے ان دس شیلفوں میں سے ایک ہے جو گزشتہ چند دہائیوں میں عالمی حدت کی وجہ سے یا تو سکڑ گئے ہیں یا پھر بقیہ برف سے علیحدہ ہو رہے ہیں۔

















