میکسیکو: وائرس سے ہلاکتوں کا خدشہ

میکسیکو میں حکام کو خدشہ ہے کہ ایک نئے فلو وائرس کے پھیلنے سے میکسیکو سٹی کے گرد و نواح میں ساٹھ لوگ ہلاک ہوگئے ہیں۔
حکام نے اس وائرس کے اثرات پر قابو پانے کے لیے دارالحکومت میں سکول اور اہم عمارتوں کو بند کر دیا ہے۔
میکسیکو کے وزیر صحت جوز اینجل کورڈوا کا کہنا ہے کہ مارچ کے وسط سے اب تک ہلاک ہونے والے ساٹھ افراد میں سے اس وائرس سے بیس کی ہلاکت کی تصدیق ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر نوجوان ہیں۔
مسٹر کورڈوا کے مطابق اینٹی وائرل ڈرگ اس بیماری سے نمٹنے کے لیے اب تک مؤثر ثابت ہوئی ہیں۔
میکسیکو میں تمام عوامی تقریبات کو منسوخ کر دیا گیا ہے اور شہریوں کو احتیاطی طور پر اس فلو کے اثرات سے بچنے کے لیے ماسک مہیا کیے گئے ہیں۔
صحت کے ماہرین اس وائرس کو ’سوائن فلو وائرس‘ کا نام دے رہے ہیں جس سے پچھلے دنوں جنوبی امریکہ میں بھی آٹھ لوگ متاثر ہوئے تھے۔ ان میں سے دو کا تعلق کیلیفورنیا اور چھ افراد کا تعلق ٹیکساس سے تھا۔ یہ افراد بعد میں صحتیاب ہوگئے تھے اور صرف ایک شخص کو ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔
عالمی ادارہ صحت کی سربراہ مارگریٹ چن فوری طور پر جنیوا پہنچی ہیں جہاں آئندہ چند گھنٹوں میں اس وائرس سے متعلق اقدامات کے لیے ایک ایمرجنسی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ ادارے کے ترجمان تھامس ابراہم نے کہا ہے کہ ’ہم بہت زیادہ فکر مند ہیں‘۔
عالمی ادارہ صحت اپنے ماہرین کو میکسیکو اور امریکہ بھیج رہا ہے تاکہ وہ وہاں پر مقامی حکام کے ساتھ مل کر کام کر سکیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سوائن فلو ایسا وائرس ہے جو سانس کے نظام کو متاثر کرتا ہے اور سؤر میں پایا جاتا ہے۔ یہ وائرس عام طور پر انسانوں پر اثر انداز نہیں ہوتا لیکن ایسے افراد کو متاثر کر سکتا ہے جو سؤر کے بہت قریب ہوں۔
ماضی میں ایسے کیس بہت کم دیکھنے میں آئے ہیں جہاں یہ وائرس ایک انسان سے دوسرے انسان کو منتقل ہوا ہو۔ ایسے کیسوں کے منظر عام پر آنے پر ان کا بغور معائنہ کیا جاتا ہے کیوں کہ اس سے خدشہ ہے کہ یہ وبا بڑے پیمانے پر پھیل سکتی ہے۔






















