سوائن فلو: خطرے کی سطح کا مطلب کیا

اقوامِ متحدہ نے سوائن فلو کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک سے چھ درجوں والا طریقۂ کار اختیار کیا ہے۔ سوائن فلو کے پہلے واقعہ سے لے کر اب تک اقوامِ متحدہ کا ادارۂ صحت ان درجوں کو بڑھاتا رہا ہے اور اب یہ سطح بڑھا کر پانچ کر دی گئی ہے۔
اس سطح کی درجہ بدرجہ اہمیت کی تفصیل کچھ یوں ہے۔
درجہ اول: اس درجے میں زکام کا وائرس جانوروں اور پرندوں میں پھیلتا ہے۔ اگرچہ درجہ اول میں اس طرح کے وائرس وبائی شکل اختیار کر لیتے ہیں لیکن پھر بھی جانوروں میں پھیلنے والے وائرس کے انسانوں میں سرایت کرنے کے کسی واقعہ کی اطلاع نہیں آتی۔
درجہ دوئم: اس درجہ میں پالتو اور جنگلی جانوروں میں زکام پھیلانے والے وائرس کے انسانوں میں بیماری پھیلانے کا پتہ چلتا ہے۔ اور اس طرح اسے ایک ممکنہ وبائی خطرہ سمجھا جاتا ہے۔
درجہ سوئم: جانوروں اور جانوروں سے انسانوں میں آئے ہوئے وائرس سے انسانوں کا ایک چھوٹا گروہ متاثر ہوتا ہے۔ لیکن اس میں ابھی بھی ایسا نہیں ہوتا کہ انسانوں سے انسانوں کو لگنے والی بیماری بڑے پیمانے پر پھیلے۔ مثلاً اس میں وائرس سے متاثرہ مریض سے یہ بیماری حفاظتی تدابیر کے بغیر اس کی تیمارداری کرنے والے شخص کو لگ سکتی ہے۔ تاہم پھر بھی اس سے یہ خطرہ نہیں ہوتا کہ یہ وبائی شکل اختیار کر لے۔
درجہ چہارم: اس درجہ میں انسانوں سے انسانوں میں منتقل ہونے والے زکام کی تصدیق ہوتی ہے کہ یہ کمیونٹی کی سطح پر وبا پھیلا سکتا ہے۔ اس درجہ میں وبا پھیلنے کے خطرے میں قابلِ ذکر اضافہ ہوتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وباء لازمی پھیلے گی۔
درجہ پنجم: اس درجہ میں انسانوں سے انسانوں میں منتقل ہونے والا وائرس عالمی ادارۂ صحت کے کسی ایک علاقے کے کم از کم دو ممالک میں پایا جاتا ہے۔ اگرچہ اس سے بھی زیادہ ممالک متاثر نہیں ہوتے لیکن اس درجہ کا مطلب ہوتا ہے کہ بیماری کے وبا بننے کا شدید خطرہ موجود ہے۔
درجہ ششم: اس درجہ کو وبائی درجہ کہتے ہیں۔ اس میں عالمی ادارۂ صحت کے مطابق کسی دوسرے علاقے کے کم از کم ایک اور ملک میں یہ وبا کمیونٹی کی سطح پر پھیلتی ہے۔ اس درجہ کا مطلب ہوتا ہے کہ عالمی طور پر یہ وبا پھیل رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی






















