مزید ممالک میں’سوائن فلو‘ کی تصدیق

اسرائیل اور نیوزی لینڈ میں بھی میکسیکو سے شروع ہونے والے’سوائن فلو‘ کے مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ عالمی ادارہِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اس فلو کے پھیلاؤ کو روکنا ممکن نہیں۔
اب تک امریکہ، کینیڈا، سپین، اور برطانیہ میں ہی اس فلو کے مریض سامنے آئے تھے تاہم اب اسرائیل اور نیوزی لینڈ میں بھی حکام نے ایسے مریضوں کی تصدیق کی ہے جو سوائن فلو میں مبتلا ہیں۔
نیوزی لینڈ میں وزیرِ صحت ٹونی ریال نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ میکسیکو سے نیوزی لینڈ آنے والے تین طالبعلم اس فلو میں مبتلا پائے گئے ہیں جبکہ اسرائیل میں بھی ایک چھبیس سالہ شخص میں سوائن فلو کی تصدیق ہوئی ہے۔ یہ شخص بھی حال ہی میں میکسیکو سے واپس آیا ہے۔
عالمی ادرۂ صحت نے ’سوائن فلو‘ کے پھیلاؤ سے متعلق صورتحال کو چوتھے درجے کا وبائی خطرہ قرار دیا ہے اور اگر عالمی ادارہِ صحت نے اس ہنگامی حالت میں مزید دو درجے کا اضافہ کر دیا تو ’سوائن فلو‘ بین الاقوامی سطح پر پائی جانے والی وبا قرار پائے گا۔
عالمی ادارہِ صحت کے اسسٹینٹ ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر کیجی فُکودہ نے کہا ہے کہ فلو سے متعلق ہنگامی حالت میں کو تیسرے درجے سے بڑھا کر چوتھے درجے کا وبائی خطرہ قرار دینا اس بات کا اشارہ ہے کہ ہم اسے ایک مکمل طور پر وبائی خطرہ قرار دینے کی طرف ایک قدم اور آگے بڑھے ہیں۔ ادارے کے حکام کا کہنا ہے کہ سوائن فلو خطرے کی اس سطح پر پہنچ چکا ہے یہ تواتر سے انسان سے انسان کو منتقل ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر کیجی فکُودہ کا کہنا ہے کہ اس بیماری کے پھیلاؤ کو روکنا اب ممکن نہیں ہے، تاہم اس کے ایک عالمی سطح کی وبا کی شکل اختیار کرنے کی صورتحال سے بچا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرحدوں کی بندش جیسے اقدامات کی ضرورت نہیں ہے اور حکومتوں کو بیماری کے اثرات کو کم کرنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔
دنیا بھر میں حکومتیں ’سوائن فلو‘ کی وباء کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اقدامات کر رہی ہیں اور امریکہ کے بعد برطانیہ نے بھی اپنے شہریوں کو میکسیکو جانے سے منع کر دیا ہے۔ دوسری طرف میکسیکو میں حکام کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر’سوائن فلو‘ سے اب تک ایک سو باون افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ اس کی علامات رکھنے والے ایک ہزار چھ سو چودہ افراد ہسپتالوں میں داخل ہیں۔
میکسیکو کے علاوہ امریکہ نے اب تک سوائن فلو کے باون مریضوں کی تصدیق کی ہے جن میں سے زیادہ تر نیویارک میں ہیں۔ سپین پہلا یورپی ملک ہے جہاں سوائن فلو کے کسی کیس کی تصدیق ہوئی جبکہ برطانیہ میں بھی حکام نے سوائن فلو کے دو کیسوں کی تصدیق کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میکسیکو کے حکام نے ’سوائن فلو‘ کی وباء کو روکنے کے لیے سخت انتظامات کیے ہیں۔ لوگوں سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ گھروں کے اندر رہیں اور اپنی صفائی ستھرائی کا خیال رکھیں۔ متعدد سرکاری عمارتوں، بار اور ریستورانوں کو بند کردیا گیا ہے۔ میکسیکو سٹی میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں تمام سکول بند کر دیے گئے ہیں جبکہ دارالحکومت میں ٹُور کمپنیوں کی طرف سے سیاحتی دورے منسوخ کرنے کے بعد ہوٹل خالی ہو رہے ہیں۔
میکسیکو کے صدر نے وباء پھیلنے کے بعد ملک میں ایمرجنسی کا اعلان کر دیا ہے۔ عوامی استعمال کی عمارتیں بند کردی گئی ہیں، بڑی تقریبات منسوخ کر دی گئی ہیں۔ایشیا اور لاطینی امریکہ کے کئی ممالک نے اپنے ہوائی اڈوں پر ملک میں آنے والے مسافروں کا طبی معائنہ شروع کر دیا ہے۔
ماہرین صحت کا کہناہے کہ اب تک کے تجزیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس بیماری کا تعلق میکسیکو میں سؤروں کے فلو وائرس سے ہے جو جنوبی امریکہ سے پھیلا ہے۔ یہ سوؤروں (اور چند پرندوں) کی سانس کی ایک بیماری ہے جو اب تک انسانوں میں عام نہیں تھی۔ اس کے پھیلنے کا ذریعہ عام نزلہ زکام کے پھیلنے کے ذریعے سے مشابہ ہے یعنی یہ کھانسی اور چھینکوں کے ذریعے ایک شخص سے دوسرے میں منتقل ہوسکتا ہے۔
اب تک اس مرض کے خلاف کوئی موثر ویکسین نہیں بنائی جاسکی ہے تاہم مریضوں کو اینٹی وائرل دوائیاں دی جارہی ہیں۔ امریکی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس فلو کی علامات اتنے زیادہ مقامات کے لوگوں میں پائی گئی ہیں کہ اس وائرس کو محدود رکھنا تقریباً ناممکن نظر آرہا ہے۔ بیماریوں کے کنٹرول کے ایک امریکی مرکز کے ٹام سکنر نے بی بی سی کو بتایا کہ ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ وبا کس تیزی سے پھیل رہی ہے اور مستقبل میں اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔






















