آفات کا خطرہ بڑھ رہا ہے: اقوامِ متحدہ

برما میں نرگس طوفان کی تباہی
،تصویر کا کیپشناگرچہ قدرتی طوفانوں کو تو نہیں روکا جا سکتا لیکن ان سے ہونے والے نقصان کو کم ضرور کیا جا سکتا ہے

اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں آفات کے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ناقص منصوبہ بندی، ماحولیاتی تباہی، اور موسمی تبدیلیوں کے نتیجے میں دنیا بھر میں المیہ جنم لے سکتا۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ممکنہ خطرات کی مناسب و درست نشاندہی نہ کیے جانے کی وجہ سے دنیا بھر میں دسیوں لاکھ زندگیاں خطرے میں پڑگئی ہیں۔

اقوام متحدہ کی مرتب کردہ رپورٹ میں غریب اور امیر ممالک کے درمیان مختلف پالیسی پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

اگرچہ 2004 کی سونامی اور گزشتہ سال چین میں آنے والا زلزلہ قدرتی آفات تھیں اور جنہیں روکا نہیں جا سکتا تھا۔ تاہم آفات کے نقصانات میں کمی کے لیے اندازہ لگانے والے ادارے ’گلوبل ایسسمنٹ آن ڈزاسٹر رسک رڈکشن‘ کے مطابق ہم اپنے نقصان کے خطرے کو کم کرنے کے لیے بہت کچھ کر سکتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم یہ نہیں کرتے۔

اقوامِ متحدہ کی اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل مارگریٹا واہلسٹرام کہتی ہیں کہ بہت سے ممالک یہ جاننے میں ناکام رہے ہیں کہ کس طرح موسمی تبدیلی ان کے شہروں اور قصبوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا: ’ہمیں مقامی سطح پر موسمی تبدیلی کے اثر کے بارے میں زیادہ معلوم نہیں ہے۔‘