ہبل کی مرمت میں مشکلات

خلائی دوربین ہبل کے ایک حصے کی خرابی دور کرنے کے لیے خلانوردوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
دو خلانوردوں نے بلیک ہول کا مشاہدہ کرنے والے سپیکٹو گراف کو ٹھیک کرنے کے لیے آٹھ گھنٹے صرف کیے جو پانچ سال پہلے بجلی کے بریک ڈاون کی وجہ سے ناکارہ ہو گیا تھا۔
آلات کو چلانے والی بیٹری کی طاقت میں کمی کی وجہ سے دور بین کے ایک جنگلے پر بری طرح پھنسے ہوئے بولٹ کو ہٹانے کے لیے خلا نوردوں کو نوے منٹ سے زائد کام کرنا پڑا۔ بعد میں ایک زور دار جھٹکے سے بوٹ کو اکھاڑا گیا اور ابتدائی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرمت کامیاب رہی ہے۔
خلائی گاڑی سے باہر زمین سے پانچ سو کومیٹر سے زائد کی بلندی پر خلا بازوں کو جنگلے کے اوپر لگے ایک سو گیارہ چھوٹے پیچوں کی وجہ سے تاخیر کا سامنا کرنا پڑا جنہیں کھولنا لازمی تھا۔ تاہم جنگلے پر لگے پیچوں کو کھولنے میں متعدد بار ناکامی کے بعد ان کو ایک زور دار جھٹکے سے پھاڑ دیا گیا ۔
بعد میں خلاباز میچل میسیجیو اور میچل گڈ نے اکھاڑے گے ٹکڑوں کو ٹیپ کے ذریعے جوڑ دیا تاکہ وہ دنیا کے ارد گرد خلاء میں متحرک ایک خطرناک تیرتی ہوئی جسامت نہ بن سکیں۔
خلانوردوں کو پھر بھی تاخیر کا سامنا کرنا پڑا جب مخصوص آلات کے ذریعے ایک پلیٹ کے اوپر لگے پیچوں کو ہٹانے کے لیے اس کو خلائی گاڑی میں لیجایا گیا تاکہ اس میں ناکارہ بیٹریوں کی جگہ مکمل طور پر چارج بیٹریوں سے تبدیل کیا جا سکے۔
تاہم اس میں مزید تاخیر ہوئی جب پلیٹ کے اوپر لگے پیچ کھولنے کے لیے سپیس شٹل میں ناکارہ بیٹریوں کی جگہ مکمل چارج بٹریوں سے تبدیل کرنے کے لیے سپس شٹل میں لیجایا گیا تاکہ وہاں اس ایک خاص قسم کے تیارہ کردہ آلات سے پیچ کھولے جا سکیں۔
ہبل دوربین کی مرمت کے لیے خلا باز کئی دنوں میں چار بار خلائی چہل قدمی کر چکے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے اب تک ہبل کے مرکزی کیمرے کو تبدیل کر کے اس کی جگہ ایک جدید قسم کا نیا کیمرہ لگایا ہے۔ خلانور نے کیمرے کے وائیڈ فیلڈ کو ٹھیک کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جس کی مدد سے خلاء کی گہرائی پر نظر رکھی جا سکے گی۔







