’مردوں میں کینسر، امکانات زیادہ‘

مرد اپنا خیال نہیں رکھتے
،تصویر کا کیپشنمرد اپنا خیال نہیں رکھتے

ماہرین کے مطابق مردوں میں اپنے ’لائف سٹائل‘ یا طرز زندگی کو بدلنے اور ڈاکٹروں سے طبی معائنہ کرانے میں ہچکچاہٹ ان میں خواتین کی بنسبت کینسر ہونے کے امکانات زیادہ ہونے کا سبب بن سکتے ہیں۔

برطانیہ میں کینسر کی بارے میں تحقیقات کے بعد ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے کینسر جو مرد اور خواتین دونوں میں ہوتے ہیں ان میں خواتین کی بنسبت مردوں میں کینسر کے ہونے کے ساٹھ فی صد اور اس سے ان کی موت ہونے کے ستر فیصد امکانات زیادہ ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پہلوکی بائیلوجکل وجوہات تو پتہ نہیں چلی ہیں لیکن یہ اس لیے ہوسکتا ہے کیونکہ خواتین اپنی صحت کی بہتر نگہداشت کرتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مردو کو کینسر کے اس خطرے کے بارے میں خبردار ہونے کی ضرور ت ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ کینسر کے آدھے سے زیادہ کیسوں میں صرف زندگی جینے کے انداز میں معمولی تبدیلیاں لانے سے ٹالے جاسکتے ہیں۔

بریسٹ کینسر اور ایسے کینسر جو جنس سے متعلق ہیں ان کے علاوہ دیگر کینسر اور لنگ کینسر مردوں کو زیادہ کرسکتے ہیں۔ خاص طور سے لنگ کینسر کیونکہ مرد خواتین کی بنسبت زیادہ تمباکو نوشی کرتے ہیں اور لنگ کینسر تمباکو نوشی سے ہوتا ہے۔

نیشنل کینسر انٹیلیجینس نیٹ ورک کے پروفیسر ڈیوڈ فورمین کا کہنا ہے کہ مردوں اور خواتین میں کینسر ہونے کے امکانات میں اتنا فرق ہونے کا کوئی بائیلوجیکل وجہ نہیں ہے اس لیے ہم یہ فرق دیکھ کر تعجب میں ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ مرد اور خواتین میں کینسر ہونے کے اس فرق سے یہی کہا جاسکتا ہے کہ اس کی اہم وجہ مردوں میں لائف سٹائیل بدلنے کے بارے میں ہچکچاہٹ ہے۔ اگر مرد اپنے لائف سٹائل بدلنے کے بارے میں رویہ بدل لیں تو ان میں کینسر ہونے کے امکانات بہت کم ہوسکتے ہیں۔

مینس ہیلتھ فورم کے چئیرمین پروفیسر ایلن وائٹ کا کہنا ہے کہ مرد اکثر تمباکو نوشی، زیادہ وزن اٹھانے، زیادہ شراب پینے اور خراب کھانا کھانے سے ہونے والے منفی اثرات کے بارے میں کم خبردار ہوتے ہیں اور اس سب سے کینسر ہونے کا خدشہ مزید بڑھ جاتا ہے۔

حالانکہ ان کا کہنا تھا کہ مرد اور خواتین میں کینسر ہونے کے اس فرق کے بارے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔