ڈیپریشن: ادویات سے علاج کو ترجیح

ورزش کرنے انسانی دماغ ایسا کیمیائی مواد خارج کرتا ہے جو ذہنی صحت کے لے مفید ہوتا ہے
،تصویر کا کیپشنورزش کرنے انسانی دماغ ایسا کیمیائی مواد خارج کرتا ہے جو ذہنی صحت کے لے مفید ہوتا ہے

مینٹل ہیلتھ فاؤنڈیشن کی تحقیق کے مطابق ذہنی امراض کے ڈاکٹرز ڈیپریشن میں مبتلا افراد کو ورزش کی بجائے ادویات تجویز کرتے ہیں۔

حالیہ اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ ایک دہائی میں ڈیپریشن سے بچاؤ کی ادویات تجویز کرنے کی تعداد دوگنا ہوگئی ہے۔

لیکن تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ کم ڈیپریشن کے مریضوں کو ورزشوں سے اتنا ہی فائدہ پہنچتا ہے جتنا کہ ان ادویات سے جبکہ ادویات کے مقابلے میں اس کا نقصان بھی کوئی نہیں ہے۔ورزش کرنے سے انسانی دماغ ایسا کیمیائی مواد خارج کرتا ہے جو ذہنی صحت کے لے مفید ہوتا ہے

اس سے قبل سنہ دو ہزار چار میں ہسپتالوں کے رہنما اصولوں میں خطرناک حد سے کم ڈیپریشن کے مریضوں کو ورزشوں کا مشورہ دینے کی ہدایت کی گئی تھی۔

لیکن مینٹل ہیلتھ فاؤنڈیشن کو تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ ملک میں ڈاکٹروں کی نصف تعداد کو ڈیپریشن میں مبتلا افراد کو ایکسر سائز ریفرل سکیم تک رسائی حاصل تھی۔ جبکہ ہر چھ میں سے ایک فرد معاشی تنزلی کی وجہ سے ڈیپریشن کا شکار ہے۔

حال میں ہونے والی اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ فنڈز کی کمی بھی ان ایکسرسائز ریفرل سکیموں تک مریضوں کی رسائی میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

تاہم تحقیق کے مطابق کئی ڈاکٹر اس بات سے بے خبر تھے کہ ان کے علاقے میں ایکسر سائز ریفرل سکیم کی سہولت موجود ہے۔

مینٹل ہیلتھ فاؤنڈیشن نے پرائمری ہیلتھ کیئر سے مطالبہ کیا ہے کہ اس طرح کی نئی سکیمیں بنائی جائیں۔