چاند پر پہلا قدم، پھر مکمل خامشی

نیل آرمسٹرونگ

چاند پر پہلا قدم رکھنے والے خلا باز نیل آرمسٹرانگ لاکھوں لوگوں کے ہیرو ہیں لیکن انہوں نے شہرت کو ترک کرتے ہوئے کنارہ کشی اختیار کر لی۔آخر ایسا کیوں ہوا، آرمسٹرانگ ہیرو سے ایک پہیلی کیوں بن گئے؟ مصنف اینڈریو سمتھ جنہوں نے چاند پر جانے والے خلابازوں کی زندگی پر کتاب لکھی یہی جاننے کے لیے طویل سفر طے کر کے آرمسٹرانگ کے قریبی لوگوں سے ملاقات کے لیے گئے۔

آرمسٹرانگ نے اپنے دیگر رفقاء کے بر عکس اپنی شہرت سے فائدہ اٹھانے سے انکار کر دیا بلکہ انہوں نے بظاہر اس کو ختم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔

اینڈریو سمتھ کا خیال ہے کہ اٹھہتر سالہ آرمسٹرانگ کے خیال میں وہ شہرت اور توجہ کے حقدار نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چاند پر انسان کو اتارنے کے مِشن پر چار لاکھ لوگوں نے مختلف حیثیتوں میں کام کیا اور صرف خلا میں جانے کی وجہ سے ان کا زیادہ حق نہیں بنتا۔

چاند پر اترنے کے بعد آرمسٹرانگ راتوں رات مشہور ہو گئے تھے۔ ان کا مشن چاند پر ایسے دور میں گیا جب دنیا خلابازی کے سحر میں گرفتار تھی۔ چاند پر انسان کے اترنے کا منظر دنیا بھر لوگوں نے ٹی وی پر دیکھا۔ خلابازوں کو واپسی پر ناسا نے عالمی دورے پر بھیج دیا۔

آرمسٹرانگ اس دورے میں شامل ہوتے ہوئے بھی تقریبات سے الگ تھلگ نظر آئے۔ انہوں نے ہر جگہ اپنے جذبات کی بجائے حقائق بیان کیے۔ انہوں نے تقریر کرنے سے اور انٹرویو دینے سے انکار کر دیا۔ رفتہ رفتہ انہوں نے آٹوگراف دینا اور غیر نجی محافل میں تصویر کھنچوانا بھی بند کر دیا۔

اینڈریو سمتھ کا کہنا ہے کہ ان کی معلومات کے مطابق گزشتہ چالیس سالوں میں نیل آرمسٹرانگ نے صرف دو انٹرویو دیے ہیں اور انہوں نے کبھی اپنے جذبات بیان نہیں کیے۔ ’وہ صرف حقائق بتاتے ہیں اور بس۔‘

سمتھ نے کہا کہ آرمسٹرونگ اپنی شہرت سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہتے تھے حالانکہ چاند پر جانے والے دوسرے خلابازوں نے ایسا کیا۔ سمتھ نے کہا کہ نیلامیاں کروانے والی ایک کمپنی نے بتایا کہ آرمسٹرانگ کو صرف ایک شام آٹوگراف دینے کے دس لاکھ ڈالر مل سکتے ہیں لیکن انہوں نے کبھی ایسا نہیں کیا۔

آرمسٹرانگ نے چاند کے سفر کے دو سال کے بعد اگست انہیس سو اکہتر میں سنسناٹی یونیورسٹی میں ایرو سپیس انجنیئرنگ کا مضمون پڑھانا شروع کر دیا۔لیکن اگر وہ سمجھتے تھے کہ اس کام میں وہ دنیا کی پہنچ سے بچ جائیں گے تو یہ ان کی غلط فہمی تھی۔ یونیورسٹی میں ان کے ایک سینیئر نے بتایا کہ آرمسٹرانگ پڑھانے کے ساتھ ساتھ ہر روز دو گھنٹے دیگر اساتذہ کی طرف سے دی گئی کاپیوں پر آٹوگرف دیتے ہوئے گزارتے تھے۔

لوگ ان کے دفتر کی کھڑکی کے باہر ایک دوسرے کے کندھوں پر سوار ہو کر اپنے آپ کو اونچا کرتے اور ان کی ایک جھلک دیکھنے کی خواہش پوری کرتے۔ وہ یونیورسٹی کے کیمپس میں آزادانہ گھومنے پھرنے سے قاصر ہو گئے تھے۔ تنہائی کی تلاش میں انہوں نے اپنا بہت سا وقت اکیلے جہاز اڑاتے گزارنا شروع کر دیا۔

آرمسٹرانگ کا یہ رویہ ان کے ساتھی خلابازوں سے مختلف تھا جو ان کے ساتھ چاند پر گئے تھے۔ بز آلڈرن مسلسل ذرائع ابلاغ پر رہتے اور مختلف پروگراموں میں حصہ لیتے۔ انسان کے چاند پر اترنے کی چالیسویں سالگرہ کے موقع پر ریپ فنکار سنوپ ڈاگ اور پروڈیوسر کوئنسی جونز کے ساتھ مل کر ’راکٹ ایکسپیریئنس‘ کے عنوان سے ایک وڈیو بنوا رہے ہیں۔