شٹل اینڈیور :خلا میں چہل قدمی

اینڈیور

شٹل اینڈیور پر موجود خلاء بازوں نے بین الاقوامی خلائی سٹیشن (ISS) پر اپنے مشن کی پہلی خلائی چہل قدمی کی ہے۔

امریکی خلاء بازوں ٹم کوپرا اور ڈیو وولف نے تقریباً چھ گھنٹے سپیس سٹیشن سے باہر گزارے۔ اس دوران انہوں نے یہ وقت ایسے ایل پلیٹ فارم پر سرف کیا جوکہ سپیس سٹیشن سے منسلک ہے۔ یہ پلیٹ فارم جاپان کی سپیس لیبارٹری ’کبو‘ نے تیار کیا ہے۔

اس مقام پر ایسے تجربات کیے جائیں گے جن کا مقصد مختلف مادوں پر خلاء کے سخت اثرات کا جائزہ لینا ہے۔

اینڈیور جمعہ کو اپنی خلائی منزل پر پہنچی تھی۔ اس شٹل پر تیرہ خلاء باز موجود ہیں جوکہ خلاء میں ایک ہی ساتھ جانے والے افراد کی ریکارڈ تعداد ہے۔

خلاء بازوں نے اس مشن کی پہلی چہل قدمی سنیچر کے روز کی جو کہ تاریخ کی 127 ویں خلائی چہل قدمی تھی جوکہ پانچ گھنٹے 32 منٹ تک جاری رہی۔ خیال تھا اس چہل قدمی میں ساڑھے چھ گھنٹے لگیں گے۔ اس واک کے دوران کئی تجربات کیے گئے۔

انہوں نے چہل قدمی کے دوران خلاء بازوں نے ہیلمٹ پہن رکھی تھیں جن میں مائیکروفون نصب تھے جن کے ذریعے سٹیشن کے اندر موجود لوگوں سے ان کا رابطہ تھا۔ تاہم واک کے دوران شدید ’سٹیٹک چارج‘ کے باعث ان کا رابطہ منقطع ہوگیا۔ تاہم یہ زیادہ خطرناک ثابت نہیں ہوا امید ہے کہ پیر کی خلائی چہل قدمی کے دوران اس مسئلے کو حل کرلیا جائے گا۔