پہلے تجارتی خلائی اڈے کی تعمیر شروع

امریکہ میں دنیا کے سب سے پہلے کمرشل سپیس پورٹ یعنی تجارتی بنیادوں میں چلنے والے خلائی اڈے کی تعمیر کا کام شروع ہو گیا ہے۔
آئندہ اٹھارہ مہینوں میں جب اس پورٹ یا اڈے کی تعمیر مکمل ہو جائے گی تو اس جگہ کا استعمال ورجن گیلیکٹس اور اس جیسی دیگر خلائی سیاحت سے متعلق کمپنیوں کے بزنس میں ایک اہم کردار ادا کرے گا۔
اس اڈے کی تعمیر میں نئی میکسیکو حکومت کے تقریباً بیس کروڑ ڈالر خرچ ہوں گے۔
نیو میکسیکو سپیس پورٹ اتھارٹی کے اہلکار سٹیو لینڈین کا کہنا ہے کہ ’مستقبل یہ ہی ہے اور ہم خلائی دنیا کے ایک نئے دور سے بہت دور نہيں ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’اس خلائی پورٹ کا مقصد صرف پرائویٹ خلا بازوں کو خلاء میں بھیجنا نہيں ہے اس کا مقصد بڑھتے ہوئے خرچے کو کم کرنا ہے، نئی دوائیاں، خلاء ميں موجود شمشی توانائی اور خلاء میں موجود مختلف سائنسی معلومات اور سہولیات کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ہے۔‘
اس پورٹ میں تین ہزار میٹر کا ایک رن وے بھی تعمیر کرایا جائے گا تاکہ وہاں دنیا کا بڑا سے بڑا طیارہ اتارا جا سکے۔
اگر تمام چیزیں منصوبے کے مطابق مکمل ہوتی ہیں تو آئندہ دو مہینوں میں افتتاحی فلائٹ میں سر ریچرڈ برانسن اور ان کے خاندان والوں کے ساتھ سپیس شپ تیار کرنے والے برٹ روٹن خلاء میں جائيں گے۔
ان کے بعد تین اور لوگ اپنی باری کے انتظار میں ہیں۔ یہ لوگ عالمی کساد بازاری کے باوجود دو لاکھ ڈالر خرچ کر کے خلاء میں چھ منٹ گزارنا چاہتے ہیں اور ان لمحات سے لفت اندوز ہونا چاہتے ہیں جب میں وہ اپنے جسم کا وزن محسوس ہی نہیں کر سکیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی





















