مشتری پر’ٹوٹ پھوٹ‘ کے ثبوت

خلائی دوربین ہبل کے کیمرے نے سیارہ مشتری کی سطح پر ماحولیاتی ٹوٹ پھوٹ کا پتہ لگایا ہے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ ٹوٹ پھوٹ کسی شہابیہ کے سیارے کی سطح سے ٹکرانے کے نتیجے میں ہوئی ہے۔
دوربین میں وائلڈ فیلڈ 3 کیمرا نصب کیاگیا ہے جو مشتری میں پڑنے والی دراڑ کی بےحد صاف تصویر کھینچ سکتا ہے۔
سب سے پہلے اس دراڑ کا پتہ آسٹریلیا کے ایک خلانورد نے چلایا تھا اور اس وقت سے لیکر آج تک دنیا کے بڑی بڑی دوربینوں نے اس کی تصاویر کھینچی ہیں۔
ناسا میں انجینئرؤں نے ہبل میں وائلڈ فیلڈ کیمرا استعمال کرنے کے لیے اس کی ’پوسٹ سروس کمیشنگ‘ کو روک دیا تھا۔
میری لینڈ کے گرین بیلٹ شہر میں ناسا کے گودارد سپیس فلائٹ سینٹر کے ایمی سمن ملر کا کہنا ہے ’ہمارا ماننا ہے کہ مشتری پر اس طرح کے اثرات مشکل سے دیکھنے کو ملے ہیں اس لیے ہم خوش قسمت ہیں کہ ہبل کے ذریعے ہم اس کو دیکھ سکتے ہیں‘۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جو تصاویر ہبل نے کھنیچی ہیں اس میں جو ٹوٹ پھوٹ دیکھی گئی ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مشتری کے ماحول میں کوئی بڑی گڑ بڑ ہوئی ہے‘۔
ہبل پر نصب کیے گئے کیمرے کا استعمال مشتری کی اب تک کی سب سے صاف تصاویر لیے جانے کے لیے کیا جائے گا۔
خلا باز اس بات کو ابھی حتمی طور پر نہیں کہہ سکتے ہیں کہ مشتری کسی سیارے سے ٹکرایا تھا لیکن جو شواہد ملے ہیں وہ بے حد دلچسپ ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق مشتری کے جس حصے میں یہ ٹوٹ پھوٹ ہوئی ہے اس کی لمبائی کئی سو میٹر ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ناسا کے چیف سائنسداں ایڈ ولر کا کہنا ہے ’یہ تصاویر جو ہیں وہ ہبل کے نئے کیمرے کی طاقت کی ایک مثال ہیں اور اس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہبل کیا کر سکتی ہے۔ اس کے لیے ہم ہبل کی ٹیم کے شکر گزار ہیں‘۔
پندرہ برس پہلے مشتری شومیکر لیوی-9 نامی سیارے سے ٹکرایا تھا جس کے بعد یہ کئی ٹکروں میں ٹوٹا تھا۔
اس حادثے کی پہلے سے ہی وارننگ تھی تو اور جب یہ واقعہ ہوا تھا تو ہبل نے اس کے کچھ نایاب تصاویر کھینچی تھیں۔
خلاء میں گزشتہ ایک دہائی سے چکر لگانے والی اس ٹیلی سکوپ نے بہت سے نئے ستارے اور سیارے دریافت کرنے میں مدد کی اور خلاء میں معلومات اکھٹی کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ اس کے ذریعے سائنسدانوں میں خلاء میں متحرک بے شمار ستاروں اور سیاروں کی تصاویر بھی فراہم کیں۔



















