ایچ آئی ون جِین کی’ڈی کوڈنگ‘

آیچ آئی وی وائرس
،تصویر کا کیپشنسائنسدان وائرس میں چھوٹی موٹی تبدیلیوں کا ارادہ رکھتے ہیں

سائنسدانوں نے ایڈز کی وجہ بننے والے ایچ آئی وی ون وائرس کے مکمل جینیاتی ڈھانچے کو ’ڈی کوڈ‘ کرنے کا دعوٰی کیا ہے۔

’نیچر‘ نامی جریدے میں شائع ہونے والی امریکی تحقیق کے مطابق سائنسدانوں کو امید ہے کہ اس دریافت سے انہیں اس وائرس کے کام کرنے کے طریقے کو سمجھنے اور ممکنہ طور پر اس کے علاج کے لیے دواؤں کی تیاری میں مدد ملے گی۔

ایچ آئی وی وائرس کی جینیاتی معلومات دیگر وائرسوں کے مقابلے میں پیچیدہ ڈھانچوں پر مشتمل ہیں۔ ایچ آئی وی وائرس کی جینیاتی معلومات فلو، ہیپاٹائٹس اور پولیو پھیلانے والے وائرسوں کی طرح سنگل سٹرینڈڈ آر این اے میں موجود ہوتی ہیں جبکہ دیگر وائرسوں میں یہ معلومات ڈبل سٹرینڈڈ ڈی این اے میں موجود ہوتی ہیں۔

ڈی این اے میں موجود معلومات آر این اے کی نسبت نسبتاً آسان کوڈ میں ہوتی ہیں۔ آر این اے پیچیدہ نمونوں اور ڈھانچوں میں تہہ ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے اس لیے جین کی مکمل ڈی کوڈنگ سے ایسی جینیاتی معلومات حاصل ہوں گح جن تک ماضی میں رسائی ممکن نہیں تھی۔

شمالی کیرولائنا یونیورسٹی کی ایک ٹیم کا کہنا ہے کہ وہ ان معلومات کی مدد سے وائرس میں چھوٹی موٹی تبدیلیوں کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس ٹیم کے رکن پروفیسر ران سوانسٹروم کے مطابق ’ہم اس جین کی ان چالاکیوں کو بھی سمجھنے لگے ہیں جن کی مدد سے یہ نشاندہی سے محفوظ رہتا ہے‘۔

ایچ آئی وی معلوماتی رسوس کے کیتھ الکورن کا کہنا ہے کہ ’ وائرس کو میوٹیٹ کرنے پر ابھارنا نیا خیال نہیں بلکہ یہ موجود تجاویز میں سے ایک ہے۔ یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ یہ معلومات ادویہ کی تیاری میں کتنی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ تاہم یہ پہلے سے موجود معلومات میں کارآمد اضافہ ہے‘۔