کتابوں کےمستقبل پر تنازعہ

گوگل کی طرف سے دنیا بھر سے کتابیں حاصل کر کے ان کی ایک بڑی آن لائن لائبریری بنانے کی کوشش کے خلاف مہم تیز تر ہو گئی ہے۔
لائبریری بنانے کے لیے گوگل نے کتابوں کے ناشرین اور مصنفین سے ایک سو پچیس ملین ڈالر کا معاہدہ کیا ہے جس سے وہ لوگ ختم کرنا چاہیں تو ان کے پاس جمعہ تک کا وقت ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گوگل کی حامیوں اور ان کی اس کوشش کے مخالفین کے درمیان بحث شدید ہو گئی ہے اور وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اپنے حق میں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
گوگل اور مصنفین کے درمیان سمجھوتہ گزشتہ سال اکتوبر میں ہوا تھا۔ اس کی بنیاد سن دو ہزار پانچ میں عدالت میں گوگل کے خلاف دائر کیا گیا ایک دعویٰ تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ گوگل نے کئی ایسی کتابیں، جن کی کاپیاں اب دستیاب نہیں تھیں، ان کے حقوق کے مالکان کی اجازت کے بغیر سکین کر لی تھیں۔
کتابوں کا یہ معاملہ اب ایک عدالت کے سامنے ہے اور اس کی منظوری کی صورت میں گوگل رجسٹری بنا سکے جہاں مصنف اور ناشر معاوضے کے بدلے اپنی تحریروں کا اندراج کر سکیں گے۔
گوگل کے منصوبے کے حامی کہتے ہیں کہ معلومات تک حصول بنیادی حقوق میں شامل ہے۔ علم افراد کو سیکھنے، تخلیق کرنے اور اپنے خوابوں کی تکمیل میں مدد فراہم کرتا ہے۔
گوگل کے حامیوں کا، جن میں امریکی طالب علم تنظیم بھی شامل ہے، کہنا ہے کہ یہی حق ایک جمہوری معاشرے میں سب کے لیے یکساں مواقعوں کی ضمانت ہے۔
طالب علموں کا کہنا ہے کہ دنیا میں لاکھوں ایسی کتابیں ہیں جن تک صرف ان مراعات یافتہ لوگوں کو رسائی حاصل ہے جو اعلیٰ تعلیم کے لیے یونیورسٹی تک جا سکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گوگل کے سب سے بڑے مخالفین نے ’اوپن بک الائنس‘ کے نام سے اتحاد قائم کیا ہے۔ اس میں غیر منافع بخش تنظیم انٹرنیٹ آرکائیو بھی شامل ہے جس کا کتابیں سکین کر کے انٹرنیٹ پر لانے کا اپنا ایک منصوبہ ہے اور اس کے تحت پانچ لاکھ کتابیں کمپیوٹر پر دستیاب کرنے کے لیے تیار کی جا چکی ہیں۔
اتحاد کے رکن پیٹربرینٹلے کا کہنا ہے کہ جیسے سات سو برس قبل گٹنبرگ نامی شخص کی طرف سے چھاپہ خانے کی ایجاد نے علم کی ترسیل کے ایک نئے دور کا آغاز کیا تھا اسی طرح وسیع پیمانے پر کتابیں کمپیوٹر پر دستیاب کرنے سے کتاب بینی میں انقلاب آ جائے گا۔
لیکن انہوں نے متنبہ کیا کہ کمپیوٹر پر ایسی لائبریری جس کا کنٹرول ایک کمپنی اور چند ناشرین کے ہاتھ میں ہوگا بالآخر مہنگائی کا باعث بنے گی۔
گوگل کے مخالفین میں یاہو، مائیکروسافٹ اور ایمزون جیسی بڑی کمپنیاں شامل ہیں۔
بہت سے لوگوں کے خیال میں ایسی کتابوں کا معاملہ جو پرنٹ میں نہیں عدالتوں کی بجائے مقننہ کو حل کرنا چاہیے۔ پرانی، نادر اور آؤٹ آف پرنٹ کتابوں کے آن لائن سٹور(alibris.com) کے بانی مارٹن مینلے نے کہا کہ عوامی بھلائی کے معاملات نجی کمپنیوں کے ہاتھ میں مناسب نہیں۔
انہوں نے کہا کہ عوامی بھلائی کے معاملات ایسے اداروں کے ذریعے ہی حل ہونے چاہیں جو مکمل طور پر یا کسی حد تک ضرور کسی کے سامنے جوابدہ ہوں۔







