خلابازوں کی آخری چہل قدمی

امریکی خلائی شٹل ڈسکوری کے خلابازوں نے بین الاقوامی خلائی سٹیشن پرآلات نصب کرنے کے بعد تیسری اورآخری خلائی چہل قدمی مکمل کر لی۔
ناسا کے افسران کا کہنا ہے کہ ایک تار کو جوڑنے کا کام نہیں ہو پایا اس لیے کچھ کام ادھورا رہ گیا ہے۔ ناسا کے فلائٹ ڈائریکٹر حیدر ریرک کا کہنا ہے کہ امید ہے کہ اگلے مشن میں کنیکٹر کی مرمت کا کام مکمل کیا جائے گا۔
یہ شٹل منگل کو روانہ ہوگی اور جمعرات کو فلوریڈا میں واپس اترے گی۔
ناسا کے افسران کا کہنا ہے کہ خلاباز ڈینی اولیور اور کرسٹر فیوگلیسن نے سات گھنٹے کی چہل قدمی کے دوران اپنے تمام مقاصد پورے کر لیے ہیں۔
اس دوران انہوں نے گلوبل پوزیشننگ سسٹم کے دو ایریل جوڑے اور الیکٹرانک آلات کو بھی تبدیل کیا تاہم اس مہم کے آخری مرحلے میں خلائی سٹیشن کے پینل پر کنیکٹر کے تار جوڑنے میں انہیں سخت دشواری کا سامنا ہوا۔
یہ کام اس وقت مزید دشوار ہو گیا جب کرسٹر کے ہیلمٹ کا کیمرہ ہل گیا اورجس کے بعد فلائٹ کنٹرولر انہیں کام کرتے دیکھ نہیں پا رہے تھے۔
ممکن ہے کہ اگلا مشن نومبر میں روانہ ہوگا۔
امریکی خلاء بازوں ٹم کوپرا اور ڈیو وولف نے تقریباً چھ گھنٹے سپیس سٹیشن سے باہر گزارے۔ اس دوران انہوں نے یہ وقت ایسے ایل پلیٹ فارم پر سرف کیا جوکہ سپیس سٹیشن سے منسلک ہے۔ یہ پلیٹ فارم جاپان کی سپیس لیبارٹری ’کبو‘ نے تیار کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس مقام پر ایسے تجربات کیے جائیں گے جن کا مقصد مختلف مادوں پر خلاء کے سخت اثرات کا جائزہ لینا ہے۔
اینڈیور جمعہ کو اپنی خلائی منزل پر پہنچی تھی۔ اس شٹل پر تیرہ خلاء باز موجود ہیں جوکہ خلاء میں ایک ہی ساتھ جانے والے افراد کی ریکارڈ تعداد ہے۔
خلاء بازوں نے اس مشن کی پہلی چہل قدمی سنیچر کے روز کی جو کہ تاریخ کی 127 ویں خلائی چہل قدمی تھی جوکہ پانچ گھنٹے 32 منٹ تک جاری رہی۔ خیال تھا اس چہل قدمی میں ساڑھے چھ گھنٹے لگیں گے۔ اس واک کے دوران کئی تجربات کیے گئے۔
انہوں نے چہل قدمی کے دوران خلاء بازوں نے ہیلمٹ پہن رکھی تھیں جن میں مائیکروفون نصب تھے جن کے ذریعے سٹیشن کے اندر موجود لوگوں سے ان کا رابطہ تھا۔ تاہم واک کے دوران شدید ’سٹیٹک چارج‘ کے باعث ان کا رابطہ منقطع ہوگیا۔ تاہم یہ زیادہ خطرناک ثابت نہیں ہوا امید ہے کہ پیر کی خلائی چہل قدمی کے دوران اس مسئلے کو حل کرلیا جائے گا۔





















