ایشیا سے یورپ براستہ شمال مشرقی گزرگاہ

جرمنی کے دو بحری جہازوں نے پہلی بار معروف ’شمال مشرقی گزرگاہ‘ کو استعال کرتے ہوئے ایشیا سے یورپ تک کا تاریخ ساز سفر کیا ہے۔
شمال مشرقی گزرگاہ وہ سمندری گزرگاہ ہے جس کے ذریعے جہاز روس کے شمال میں منطقۂ قطب شمالی (آرکیٹک) سے ہوتے ہوئے یورپ سے ایشیا جا سکتے ہیں۔ یہ وہ راستہ ہے جسے جہاز ران صدیوں سے تلاش کرنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن منجمد سمندر اور روس کی طرف سے پابندی ان کے راستے کی رکاوٹیں تھیں۔
بحری جہاز ’دی بیلوگا فورسائٹ‘ کے کپتان ویلری دُوروو نے کامیاب سفر کے بعد کہا کہ بین الاقوامی بحری تجارت میں نئے دور کا آغاز ہونے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورے راستے یوں سمجھیں کہ انہیں کہیں برف نہیں ملی۔ ’بیس برس پہلے میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔‘
انہوں نے کہا کہ عین ممکن ہے عنقریب شمال مشرقی گزرگاہ میں پورے سال سفر ممکن ہو جائے۔ کپتان کا کہنا تھا کہ ان کے جہاز کے ساتھ سمندر کی سطح پر جمی ہوئی برف توڑنے والے جہاز چل رہے تھے لیکن راستے بھر ان کی ضرورت نہیں پڑی۔
روس میں ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا سے شمالی روس تک کا یہ سفر صحیح معنوں میں پیشرفت ہے۔ ماضی میں کسی جہاز کو شمال مشرقی گزرگاہ سے جانے کی اجازت نہیں تھی۔ لیکن اب روس عالمی بحری تجارت کے منافع میں شریک ہونا چاہتا ہے۔
روسی حکام کے مطابق شمال مشرقی گزرگاہ کا کھل جانا پورے شمالی روس کے نئے جنم کا باعث بنے گا۔ کاروباری اعتبار سے اس راستے سفر کرنا بہت فائدہ مند ہے۔ جنوبی کوریا سے اگر اس راستے سے ہالینڈ جائیں تو پچھتر فیصد سفر کم ہو جاتا ہے اور اس کا مطلب ہے کہ دس روز کی بچت۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ دوسری کمپنیاں بھی یہ راستہ استعمال کریں گی۔ بحری صنعت سے وابستہ لوگ کہتے ہیں کہ روس کے ساحلوں پر اور سمندر میں ضروری ڈھانچہ موجود نہیں اور کاغذی کارروائی بھی بہت زیادہ درکار ہے۔
ماحولیات کے ماہرین کے لیے تاہم اس گزرگاہ کا کھل جانا اچھی خبر نہیں۔ یہ اس بات کی نشاندہی ہے بحیرہ آرکیٹک میں برف کمزور ہو چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق آرکیٹک میں ٹھوس برف اب دس بیس برس پہلے کے مقابلے میں دس گنا کم رقبے پر پائی جاتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برف کا پگھلنا دنیا میں ڈھاکہ سے لندن تک نیچی سطح پر آباد شہروں کے لیے بھی اچھی خبر نہیں کیونکہ اس کا نتیجہ سمندر کی سطح میں اضافہ ہوگا۔







