’زیرِ آب صدیوں پرانی عمارات‘

پاولوپیٹری
،تصویر کا کیپشنپاولوپیٹری دنیا کا سب سے قدیم غرقاب شہر ہے

سمندر کی سطح سے چند میٹر نیچے شفاف پانی کو چیرتی ہوئی سورج کی کرنیں ایک قدیم تہذیب کے آثار کی نشاندہی کرتی ہیں جو کبھی ادب اور تاریخی حیثیت اختیار کرنے والے قصوں کا منبع تھی۔

یونان کے ساحل لکونیا سے ہٹ کر کانسی کے عہد سے تعلق رکھنے والے یہ آثار خیالی نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی ہیں۔ زیر آب آثار قدیمہ تلاش کرنے والے آلات میں بہتری سے سمندروں کی تہہ میں پوشیدہ راز کھل رہے ہیں۔

بین الاقوامی ماہرین کی ایک ٹیم نے یونان کی حکومت سے اجازت ملنے کے بعد سمندر کی تہہ سے پانچ ہزار برس پرانے اوزار برآمد کیے ہیں۔

سمندر کی تہہ سے ملنے والی یہ نئی معلومات دنیا کے سب سے قدیم غرقاب شہر کے وجود کی تاریخ مزید ایک ہزار برس پہلے بتاتی ہے۔

ماہرین کی ٹیم کے سربراہ نوٹنگھم یونیورسٹی کے ڈاکٹر جان ہینڈرسن نے بتایا کہ انہیں سمندر کی تہہ میں غرقاب شہر کا بظاہر مکمل نقشہ جس میں مرکزی گلیوں، پتھروں سے بنے مزار، نجی عمارات، احاطے اور عبادت گاہوں کے آثار نظر آ رہے ہیں۔

یونانی حکام نے کہا کہ غرقاب ہونے کی وجہ سے یہ ایک نایاب دریافت ہے کیونکہ ختم ہونے کے بعد اسے دوبارہ کبھی آبار نہیں کیا جا سکا۔انہوں نے کہا کہ یہ ماضی کے لمحے کی جھلک دکھاتی ہے جو منجمد ہو چکا ہے۔

ماہرین اس غرقاب شہر کے بارے میں اپنی تحقیق سن دو ہزار چودہ میں نشر کریں گے اور اس سے پہلے چار مزید فیلڈ ورک کے دور ہوں گے۔