دماغ میں یادیں بنانے کے نظام کی دریافت

امریکی سائنسدانوں نے اس نظام کی دریافت کر لی ہے جس کی وجہ سے دماغ یادیں بنانے کے قابل ہوتا ہے۔
سناپسز جہاں دماغی خلیے ایک دوسرے سے ملتے ہیں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ وہ مرکز ہے جہاں معلومات کا تبادلہ اور دماغ میں معلومات جمع ہوتی ہیں۔
لیکن تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ ان کو اب یہ معلوم ہوا ہے کہ سناپسز میں مالیکیول کیسے یادیں پختہ کرنے کے حوالے سے کام کرتے ہیں۔
نیورون میں چھپنے والی اس تحقیق کے بارے میں امید کی جا رہی ہے کہ یہ الزائمر کی بیماری کی دوا کی تیاری میں مدد کرے گی۔ الزائمر بیماری کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ سناپسز کی بگڑتی ہوئی حالت کی وجہ سے قلیل مدتی یادیں متاثر ہوتی ہیں اور پھر طویل مدتی یادوں پر بھی اثر پڑتا ہے۔
یادوں کی پختہ رکھنے کے لیے ایک تندرست و توانا سناپسز کی ضرورت ہوتی ہے اور اس عمل میں نئی پروٹین کا بننا شامل ہوتا ہے لیکن ابھی یہ نہیں معلوم کہ انسانی جسم اس عمل کو کیسے کنٹرول کرتا ہے۔
سینٹا باربرا میں کیلیفورنیا یونیورسٹی میں سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ چوہوں پر کیے گئے تجربات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پروٹین کا بننا صرف اس وقت ممکن ہے جب آر این اے کام کر رہا ہو۔ آر این اے اس عمل کا نام ہے جس میں مالیکیولوں کا مجموعہ جینیاتی پیغامات نیوکلیئس سے دیگر خلیوں تک پہنچاتے ہیں۔



