موسم خراب نئی دوربین روانہ نہیں ہوسکی

امریکی خلائی ادارہ ناسا سورج اور اس کے پیچیدہ دائرہ عمل کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لیے نئی دوربین کا خلائی سفر تیز ہواؤں کے باعث ملتوی ہوگیا ہے۔
دوربین بدھ کوگرینیچ کے معیاری وقت کے مطابق سہ پہر تین بجے کے قریب اپنے سفر پر روانہ ہونے والی تھی۔ نئے اوقات کا ابھی اعلان نہیں کیا گیا۔
خلائی دوربین سٹیشن یا آبزرویٹری پانچ برس تک خلا میں رہے گی۔ یہ سٹیشن چوبیس گھنٹے میں زمین کے گرد اپنا چکر مکمل کرے گا اور اس دوران تصاویر ناسا کو بھیجتا رہے گا جن کی مدد سے سائنسدانوں کو سورج کے گرد معمولی سے معمولی تفصیل کا پتہ چل سکے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وہ یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ سورج پر رونما ہونے والی تبدیلیاں ہمارے نظام شمسی میں درجۂ حرارت اور توانائی کی سطحوں پر کیسے اثر انداز ہوتی ہیں۔ یہ تبدیلیاں جنھیں سائنسدان ’سپیس ویدر‘ کہتے ہیں کرۂ ارض کے مواصلات اور سیاروں کے سگنل اور توانائی فراہم کرنے والی لائنوں میں خلل ڈال سکتی ہیں۔
دوربین خلائی مشن کو بدھ کی صبح فلوریڈا میں کیپ کینورل کی رسدگاہ میں روانگی کے لیے تیار کیا گیا ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ بادلوں، تیز ہوا اور بارش کے باعث مشن کی روانگی میں تاخیر ہوسکتی ہے۔
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ سورج کے ارد گرد بہت سی پیچیدہ تبدیلیاں رونما ہوتی رہتی ہیں جو ابھی تک سربستہ راز ہیں اور جن کے اسباب جان کر ہی یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ سورج کی مقناطیسی شعائیں ارد گرد پھیلے ہوئے نظام شمسی پر کیسے اثر انداز ہورہی ہیں۔
خلائی دور بین مشن کے سربراہ ڈین پیسنیل کا کہنا ہے جیسے جیسے ہمارا جدید ٹیکنالوجی پر انحصار بڑھ رہا ہے سورج نے ہماری زندگیوں کو پہلے سے زیادہ متاثر کرنا شروع کردیا ہے۔
ان کا کہنا ہے زیادہ تر اثرات کا تعلق سورج کے گرد بننے والے ایک مقناطیسی میدان سے ہے۔ سائینسدان سورج کے گرد بننے والے اسی دائرے کے پیدا ہونے اور پھر ٹوٹ پھوٹ جانے کے عمل کی تفصیلات جاننے کی کوشش کریں گے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ سورج کے گرد پیدا ہونے والی یہ تبدیلیاں کرہ ارض پر کیسے اثر انداز ہورہی ہیں۔


















