گوشت کا کاروبار اور ماحولیات
دو ہزار چھ ميں تیار کی گئی رپورٹ کو اقوامی متحدہ کے خوراک اور زراعت کے ادارے نے شائع کیا تھا۔ اقوام متحدہ کے ماہرین دوبارہ اس رپورٹ پر غور کریں گے جس ميں کہا گیا تھا کہ گوشت کے کاروبار سے ماحولیات پر اثر پڑتا ہے۔
سنہ دو ہزار چھ ميں جاری کی گئی ایک رپورٹ ميں کہا گیا تھا کہ گوشت کی پروڈکشن کے سبب 18 فیصد گرین ہاؤس گیسز کا اخراج ہوا ہے۔ یہ اعدادوشمار ٹرانسپورٹ کی صنعت سے ہونے والے اثرات سے زیادہ تھے۔
لیکن حال ہی میں امریکہ میں ہونے والی ایک سائنسی اجلاس میں کہا گیا ہے کہ رپورٹ ميں ٹرانسپورٹ کی صنعت سے اس کا موازنہ کرنا غلط تھا۔
سین فرانسسکو میں منعقد کیے گئے امریکی کیمکل سوسائٹی کے ایک اجلاس میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے فرانک مٹلوئہنر نے کہا ’کم گوشت اور دودھ کے پروڈکشن کا یہی مطلب ہوگا کہ غریب ممالک مزید بھوکے رہیں گے۔‘
دو ہزار چھ ميں تیار کی گئی رپورٹ کو اقوامِ متحدہ کے خوراک اور زراعت کے ادارے نے شائع کیا تھا۔ اس رپورٹ ميں گوشت کے پروڈکشن کے لیے کھیت سے کھانے کی میز تک کے سفر کا جائزہ لیا گیا تھا جس میں کھاد، جانوروں کے ہازمے سے ہونے والے میتھین گیس کا اخراج اور کھیتوں ميں استعمال ہونے والی گاڑیوں کو بھی شامل کیا گیا تھا۔
ماحولیاتی تبدیلی پر کام کرنے والے انٹرگورنمنٹل پینل آن کلائمٹ چینج یعنی آئی پی سی سی کے چیرمین راجیندر پچوری نے اور لارڈ نکولس سٹرن نے بھی اٹھارہ فیصد اعدادوشمار کا حوالا دیتے ہوئے لوگوں سے کم گوشت کھانے کی اپیل کی تھی۔
لیکن ڈاکرٹ مٹلوئہنر کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ کی صنعت سے ہونے والے اخراج کا اتنا تفصیلی جائزہ نہیں لیا گیا تھا۔



