موسمی تبدیلی پر اجلاس ’مفید‘: بان کی مون

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کا کہنا ہے کہ منگل کو نیو یارک میں موسمی تبدیلی پر ہونے والا ایک روزہ سربراہی اجلاس انتہائی مفید رہا ہے کیونکہ اس سے عالمی حدت پر قابو پانے کی کوششوں میں تیزی آئی ہے۔
بان کی مون کے مطابق اس اجلاس کے بعد سیاسی سطح پر کوششیں تیز ہوئی ہیں اور اب اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ دسمبر میں ڈنمارک میں موسمی تبدیلی پر اگلے اجلاس میں اس پر اہم فیصلے کیے جائیں۔
ڈنمارک کے دار الحکومت کوپن ہیگن میں متوقع اس اجلاس میں ایک نئے معاہدے کو منظور کیا جائے گا۔
نیو یارک کے اجلاس کے اختتام پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ’اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ دسمبر کے سربراہی اجلاس میں عالمی سطح پر اتفاق ہو جائے گا تام یہ ْضرور کہا جا سکتا ہے کہ اب ہم اس کے ایک قدم اور قریب آگئے ہیں۔‘
انہوں نے عالمی رہنماؤں کی موسمی تبدیلی کے معاملے سے نمٹنے کے عزم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’موسمی تبدیلی ہمارے دور کا سب سے اہم چیلنج ہے۔‘
نیو یارک کے اجلاس میں چین نے بھی یہ عہد کیا کہ وہ اپنی صنعت سے پیداہونے والی زہریلی گیسوں کے اخراج کو کم کرے گے اور توانائی کے بہتر طریقہ کار تلاش کرے گا۔ اس موقع پر چین کے صدر نے اس بارے میں کوئی تفصیلات نہیں بتائیں لیکن ان کا کہنا تھا کہ سنہ دو ہزار نو تک چین اپنی مجموعی ملکی پیداوار کی نسبت زہریلی گیوں کے اخراج میں نمایاں کمی کرے گا۔
اس پر ماحولیات کے لیے کام کرنے والی اہم شخصیت اور امریکہ کے سابق نائب صدر ایل گور نے چینی حکومت کی تعریف کی۔
اس کے علاوہ اجلاس سے امریکی صدر براک اوباما، جاپان کے وزیر اعظم یوکیو ہاتویاما اور فرانس کے صدر نیکولا سارکوزی نے خطاب کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صدر اوباما نے یہ ہدف مقرر کیا ہے کہ زہریلی گیسوں کے اخراج کو کم کر کے انیس سو نوے کی سطح تک واپس لایا جائے۔
ان گیسوں سے پیدا ہونے والی آلودگی کے بیس فیصد حصے کا ذمہ دار امریکہ ہے اور بیس فیصد کا ذمہ دار چین ہے۔ چودہ فیصد کی ذمہ دار یورپی یونین ہے اور پانچ پانچ فیصد کے ذمہ دار روس اور بھارت ہیں۔







