’چاند سکڑ رہا ہے‘

سائنس نامی جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں سائنسدانوں نے کہا ہے کہ چاند کی سطح سکڑ رہی ہے۔
اس میں پریشانی کی کوئی بات نہیں کیونکہ بقول سائنسدانوں کے چاند کے سکڑنے کی رفتار انتہائی سست ہے۔
اُ ن کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک ارب سالوں میں چاند کی سطح پر موجود دراڑوں یا فالٹ لائننر کے ٹکرے ایک دوسرے کے قریب آ گئے ہیں۔
انہوں نے یہ دعویٰ چاند کے گرد بھیجے گئے مصنوعی سیارے کے مشن کی طرف سے ارسال کی گئی تصاویر کی بنیاد پر کیا ہے۔
سائنسدان چاند کی سطح پر ٹکڑوں کے سکڑنے کی وجہ اس کی اندرونی سطح کے ٹھنڈے ہونے کو بھی قرار دے رہے ہیں۔
اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ چاند کہیں غائب نہیں ہونے والا اور سکڑنے کا یہ عمل اس قدر آہستہ ہے کہ اس سے زمین پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔















