انتہاپسند سائٹوں کی بھرمار: انٹرپول

انٹرپول کے سربراہ رونالڈ نوبل نے خبردار کیا ہے کہ انتہاپسند ویب سائٹوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ القاعدہ کے بھرتی کے کام کو آسان بنا رہا ہے۔
منگل کے روز پیرس میں پولیس سربراہان کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا خطرہ عالمی ہے، حقیقی ہے اور ہماری دہلیزوں تک پہنچ چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سن انیس سو اٹھانوے تک ایسے صرف بارہ ویب سائٹ وجود رکھتے تھے لیکن سن دو ہزار چھ تک ان کی تعداد ساڑھے چار ہزار تک پہنچ چکی تھی۔
مسٹر رونالڈ نوبل کے مطابق انٹرنیٹ نے انتہا پسندی کے رحجانات کا مقابلہ کرنا مشکل بنا دیا ہے کیونکہ انتہا پسند ویب سائٹوں پر جاری کئی سرگرمیاں جرم کی ذیل میں نہیں آتیں۔
انہوں نے کہا کہ ان ویب سائٹوں کے ذریعے جن افراد تک پہنچا جا رہا ہے وہ مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے نوجوان ہیں جن کے اس پیغام سے متاثر ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
لندن میں قائم انٹرنیشنل سنٹر فار دی سٹڈی آف ریڈیکلائزیشن کے ساتھ منسلک ایک ریسرچر الیگزینڈر میلیگرو ہچنز نے بی بی سی کو بتایا کہ انتہا پسند ویب سائٹوں کی تعداد اس سےے کہیں زیادہ ہے جتنی انٹرپول کے سربراہ نے اپنی تقریر میں بیان کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صرف انگریزی میں چلائے جانے والے انتہا پسند ویب سائٹوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتہا پسند ویب سائٹوں کی تعداد میں اضافے کو روکنا حکومتوں کے لیے مشکل ثابت ہوا ہے۔
’جیسے ہی آپ ایک ایسے ویب سائٹ کو بند کرتے ہیں، کہیں اور سے کوئی دوسرا سر نکال لیتا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گزشتہ ہفتے برطانوی سکیورٹی سروس ایم آئی فائیو کے جوناتھن ایونز نے یمنی مبلغ انور اولاکی کے بڑھتے ہوئے اثرو نفوذ پر تشویش کا اظہار کیا تھا جن کے صرف یوٹیوب پر ہی پانچ ہزار سے زائد خطبے موجود ہیں۔




















