سٹریٹ ویو جرمنی میں لائیو

اسی طرح کی خصوصی کاروں کے ذریعے تصاویر حاصل کی جاتی ہیں
،تصویر کا کیپشناسی طرح کی خصوصی کاروں کے ذریعے تصاویر حاصل کی جاتی ہیں

پرائیویسی کے مسائل پر مہینوں بحث کے بعد جرمنی میں گوگل کے سٹریٹ ویو نے لائیو تصاویر بھیجنا شروع کر دی ہیں۔

یہ تجربہ سب سے پہلے جرمنی کے بوارایا کے علاقے کے شہر اوبرسٹافن کو نقشے پر لانے کے بعد کیا گیا ہے۔

جرمنی پہلا ملک ہے جس نے گوگل کے ساتھ کامیابی سے مذاکرات کیے ہیں کہ سروس کے لائیو جانے سے پہلے جو بھی شہری اس سروس سے نکلنا چاہیں نکل سکتے ہیں۔

تقریباً ڈھائی لاکھ جرمن شہریوں نے درخواست دی ہے کہ حتمی تصاویر سے ان کے مکانات کو دھندلا کیا جائے۔

لیکن گوگل نے خبردار کیا ہے کہ اتنی بڑی درخواستوں پر فوری طور عمل درآمدا ممکن نہیں سکتا ہے۔

’ دیا گیا طریقہ کار کتنا پیچیدہ ہے، کچھ مکانات کے مالکان نے کہا کہ ان کے گھروں کی تصاویر کو دھندلا کیا جائے لیکن آئندہ چند ہفتوں میں تصاویر کو لانچ کیا جائے گا تو یہ واضح ہونگی۔‘

گوگل کے مطابق وہ سخت محنت کر رہے ہیں ایسی تصاویر کی تعداد کو کم از کم رکھا جائے لیکن کسی بھی سسٹم کی طرح اس میں بھی غلطی کی گنجائش موجود ہے۔‘

اس وقت سٹریٹ ویو بیس ممالک میں موجود ہے اور اس کو استعمال کرنے والے خصوصی کاروں کے ذریعے حاصل کردہ تصاویر سے رہنمائی لیتی ہوئے قصبوں اور شہروں میں سے گزر سکتے ہیں۔

لیکن بعض ممالک میں پرائیوسی کے مسئلے کی وجہ سے اس سروس کو مشکوک کر دیا ہے کیونکہ شہریوں کی جانب سے شکایات کی گئی ہیں کہ تصاویر لیتے وقت ان کی نجی زندگی میں مداخلت کی گئی ہے۔

جرمنی میں سٹریٹ ویو سروس کے جائزے کے دوران جرمنی میں ڈیٹا کی حفاظت کی ایجنسی نے گوگل سٹریٹ ویو کے ڈیٹا کی چھان بین کا کہا تھا۔