گوگل ’سٹریٹ ویو‘ بند کرنے کے درخواست

نجی معاملات کے تحفظ کے لیے مہم چلانے والے گروپ نےگوگل کے ’سٹریٹ ویو‘ پروگرام کے خلاف ایک درخواست انفارمیشن کمشنر کو بھیج دی ہے۔
گوگل نے حال ہی میں برطانی میں یہ سہولت فراہم کی ہے جس کے تحت لوگ مختلف شہروں کی گلیوں محلوں کی تصاویر دیکھ سکتے ہیں۔یہ سہولت فی الحال برطانیہ کے پچیس شہروں میں مسیر ہے۔ تاہم اس سروس کے آغاز کے اگلے ہی دن گوگل نے عوام کی شکایات پر متعدد تصاویر اپنی ویب سائٹ سے اتاری ہیں۔
’پرائیویسی انٹرنیشنل‘ کی اس درخواست میں دو سو سے زائد ایسی رپورٹس کا حوالہ دیا گیا ہے جن کے مطابق گوگل پروگرام میں موجود افراد کی شناخت کی جا سکتی ہے۔ یہگروپ چاہتا ہے کہ انفارمیشن کمشنر آفس اس بات کا جائزہ لے کہ ’سٹریٹ ویو` پروگرام کیسے کام کرتا ہے۔ تاہم گوگل کا کہنا ہے کہ ’ آئی سی او بار بار یہ واضح کر چکا ہے کہ اسے یقین ہے کہ سٹریٹ ویو میں عوام کی نجی زندگی کی حفاظت کے تمام ممکنہ اقدامات موجود ہیں‘۔
’پرائیویسی انٹرنیشنل‘ کے ڈائریکٹر سائمن ڈیویز کے مطابق ان کی تنظیم نے یہ درخواست بہت سے برطانوی شہریوں کو ہونے والی شرمندگی اور نقصان کے تناظر میں دائر کی ہے۔ ان کا دعوٰی ہے کہ سٹریٹ ویو نے انفارمیشن کمشنر آفس کو کرائی جانے والی یقین دہانیوں پر عمل نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمارا مطالبہ ہے کہ جب تک اس معاملے کی تحقیقات نہیں ہو جاتیں اس نظام کو بند کیا جائے‘۔
آئی سی او کا کہنا ہے کہ انہیں پرائیویسی انٹرنیشنل کی درخواست موصول ہوگئی ہے اور وہ جلد ہی اس کا جواب دیں گے۔ ادارے کے مطابق ’ یہ گوگل کی ذمہ داری ہے کہ وہ یقینی بنائے کہ پروگرام میں موجود تمام چہرے اور رجسٹریشن پلیٹیں قابلِ اطمینان حد تک دھندلی ہیں‘۔
یاد رہے کہ سنہ 2008 میں ’آئی سی او‘ نے سٹریٹ ویو کو اس بنیاد پر چلانے کی اجازت دی تھی کہ گوگل تصاویر میں دکھائی دینے والے چہرے اور گاڑیوں کی نمبر پلیٹیں دھندلا دے گا۔


















