ڈسکوری آخری پرواز میں تاخیر

امریکی خلائی شٹل ڈسکوری کے آخری مشن میں ایندھن کے اخراج کی وجہ سے تاخیر ہو گئی ہے۔
چھبیس سال خلائی مشنوں پر جانے کے بعد اب ڈسکوری زمین کے مدار میں بین الاقوامی خلائی سٹیشن کا آخری چکر لگا کر عجائب گھر کی زینت بننے جا رہی ہے۔
امریکی خلائی ادارہ ایک ہفتے سے ڈسکوری کو روانہ کرنے کی کوشش میں ہے لیکن تکنیکی خرابیاں اور موسم آڑے آ رہا ہے۔ آخری بار ایندھن بھرے جانے کے دوران شٹل سے ہائیڈروجن کا اخراج شروع ہو گیا اور ایک بار پھر پرواز مؤخر کرنی پڑی۔
ناسا اب تیس نومبر کو ڈسکوری کو روانہ کرنے کی کوشش کرے گی۔ تیس نومبر کے بعد ساڑھے تین ہفتوں کا دورانیہ ہے جس میں شٹل کو سورج کی پوزیشن کی وجہ سے خلا میں نہیں بھیجا جا سکے گا۔
انیس سو چوراسی سے اب تک ڈسکوری نے اڑتیس خلائی مشن کیےہیں۔ اس دوران اس نے تئیس کروڑ کلومیٹر فاصلہ طے کیا۔
ڈسکوری کے آخری مشن کے ساتھ ہی ان امریکی خلائی گاڑیوں کا ایک دور ختم ہو جائے گا اور آئندہ امریکی خلاباز روسی خلائی راکٹ سویوز پر سفر کریں گے۔
ڈسکوری کے علاوہ اب دو خلائی شٹل باقی ہیں۔ ان میں سے اینڈیور اگلے سال فروری میں ایک مشن پر جائے گی اور وسائل کی دستیابی کی صورت میں ایٹلانٹس جون میں مشن پر روانہ ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد روسی خلائی راکٹ اس وقت تک خلائی مشن پر جانے کا ذریعہ ہوگا جب تک امریکہ میں کاروباری سطح پر خلائی گاڑیاں کام نہیں شروع کر دیتیں۔















