تھوڑی شراب دل کے لیے اچھی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
تیس برسوں کی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ تھوڑی سی شراب روزانہ پینے سے دل کے عارضے سے بچا جا سکتا ہے۔
برطانیہ کے طبی جریدے ’برٹش میڈیکل جرنل‘ میں چھپنے والی اس تحقیق کے مطابق جب شراب نہ پینے والوں اور معتدل مقدار میں شراب پینے والوں کا موازنہ کیا گیا تو دیکھا گیا کہ معتدل مقدار میں شراب پینے والوں میں امراض قلب کے امکانات 14 سے 25 فیصد کم ہوئے۔
یہ تحقیق کینیڈا کے ایک ریسرچ گروپ نے کی ہے اور ایک الگ مقالے میں ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ شراب پینے سے خون میں ’اچھے‘ کلسٹرول میں اضافہ ہوتا ہے۔
یونیورسٹی آف کیلگری میں محققین نے 1980 اور 2009 کے درمیان شراب اور امراض قلب پر کیے گئے چونتیس تحقیقاتی منصوبوں کا جائزہ لیا۔ ماضی میں کیے گئے کئی جائزوں سے یہ خیال رہا ہے کہ شراب متعدل مقدار میں پینا صحت کے لیے اچھا ہوتا ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں نکلتا کہ سب کو شراب پینا شروع کر دینا چاہیے۔
تیس سال کی تحقیق کے اس جائزہ سے پتہ چلتا ہے کہ تھوڑی سی شراب (یعنی ڈھائی سے چودہ گرام) پینے والوں میں امراض دل اور موت کے امکانات میں پچیس فیصد تک کمی ہوتی ہے ۔ تاہم کم شراب پینے سے جہاں دل کی بیماریوں اور فالج سے بچاجا سکتا ہے، زیادہ شراب پینے سے ان کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھتا ہے۔
یونیورسٹی آف کیلگری کے پروفیسر ولیئم غالی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمارے جائزہ سے واضح ہوتا ہے کہ ایک یا دو گلاس شراب صحت کے لیے مفید ہو سکتا ہے‘۔
تاہم برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کی کیتھی راس کا کہنا ہے کہ اس جائزے سے یہ تو پتہ چلتا ہے کہ تھوڑی سی شراب صحت کے لیے اچھی ہے تاہم زیادہ شراب پینے سے ہائی بلڈ پریشر، فالج کے حملے، کینسر اور امراض قلب کا خطرہ رہتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یونیورسٹی آف کیلگری کے دوسرے جائزے کے مطابق الکحول سے خون میں اچھے کولیسٹرول میں اضافہ ہو سکتا ہے جو کہ دل کے لیے مفید ہوتا ہے۔






















