آئی فون: لوکیشن ایپ کی تصحیح

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ایپل نے آئی فون اور آئی پیڈ کے اس متنازع ایپ کو ٹھیک کر دیا ہے جس کے ذریعے صارفین کی نقل و حرکت اورمقام کا تفصیلی ریکارڈ بن جاتا تھا۔
یہ مسئلہ اس وقت سامنے آیا جب سکیورٹی محققین کو آئی فون اور آئی پیڈ پر ایک خفیہ فائل ملی جس پر صارفین کی تمام نقل و حرکت کا ریکارڈ موجود تھا۔
یہ فائل اگر مخصوص سافٹ ویئر کے ساتھ استعمال ہو تو صارفین کے مقام اور تمام آمد و رفت کا ریکارڈ مل سکتا ہے۔
ایپل کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد صارفین کے مقام کی معلومات جاننا نہیں تھا بلکہ یہ محض سافٹ وئیر میں ایک ’بگ‘ یعنی غلطی تھی۔
ایپل نے اب اس ایپ میں نقص کو درست کر دیا ہے۔ اب اس کے ذریعے صرف ایک ہفتے تک کا ڈیٹا رہے گا اور یہ کمپیوٹر پر نہیں منتقل ہوگا۔
تاہم اگر صارفین آئی فون یا آئی پیڈ پر لوکیشن سروسز کو بند کر دیں تو یہ معلومات ریکارڈ نہیں ہوگی۔
معلومات کے ریکارڈ کے مسئلے کی نشان دہی محققین الیسڈئر ایلن اور پیٹر وارڈن نے کیا۔ ان کو اس کی سکیورٹی سے متعلق کئی خدشات تھے۔
ایپل کا کہنا ہے کہ اس ایپ کا مقصد لوگوں کے اتا پتا رکھنے کے لیے نہیں بلکہ قریبی وائی فائی سے رابطے کرنا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سمارٹ فون سے حاصل ہونے والی لوکیشن معلومات کے بارے میں اب کئی خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں ایپل کے خلاف مشی گن اور فلوریڈا میں مقدمے بھی درج ہو چکے ہیں۔





















