’انٹرنیٹ ایکسپلورر سے متعلق خبر جعلی‘

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق انٹرنیٹ ایکسپلورر استعمال کرنے والوں کا آئی کیو کم ہونے کے بارے میں شائع ہونے والی خبر جعلی ہے۔
کینیڈین فرم اپٹی کوئنٹ نامی فرم کی جانب سے کی گئی مبینہ تحقیق پر مبنی خبر میں کہا گیا تھا کہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کا ایک ’آئی کیو‘ ٹیسٹ لیا گیا جس کے نتائج کو ان کی ویب براؤزر پسند سے ملا کر دیکھا گیا اور یہ بات سامنے آئی کہ انٹرنیٹ ایکسپلورر استعمال کرنے والے افراد کی ذہانت کا درجہ کروم، فائرفوکس اور سفاری براؤزر استعمال کرنے والے افراد کے مقابلے میں کم تھا۔
یہ خبر بی بی سی، سی این این، ڈیلی میل، ٹیلی گراف اور فوربز پر شائع ہوئی تھی۔
اس خبر کی اشاعت کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ جس ویب سائٹ پر یہ مبینہ تحقیق چھپی تھی وہ جعلی تھا اور حال ہی میں پیرس کے ایک ویب سائٹ سنٹرل ٹیسٹ سے تصویریں چوری کر کے بنایا گیا تھا۔
ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس کارستانی کے پیچھے کون تھا۔
خبر کے اصلی ہونے کے بارے میں سوالات گزشتہ روز بی بی سی کے ایک قاری نے اٹھائے اور یہ ثابت کیا کہ جس کمپنی نے مبینہ طور پر یہ تحقیق شائع کی تھی اس کا ویپ سائٹ گزشتہ ماہ کی قائم کیا گیا تھا۔
بی بی سی کے رابطہ کرنے پر سنٹرل ٹیسٹ نے تصدیق کی کہ انہیں اس جعل سازی کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے لیکن وہ کینیڈین فرم اپٹی کوئنٹ اور اس کی کارروائیوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔
کینیڈین فرم اپنی کوئنٹ نے ایک پریس ریلیز جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ایک لاکھ سے زائد انٹرنیٹ صارفین کو ایک فری آن لائن آئی کیو ٹیسٹ دیا تھا۔ جس سے پتہ چلا کہ انٹرنیٹ ایکسپلورر استعمال کرنے والوں کا آئی کیو اسّی کے پیٹے میں ہے جبکہ کروم، فائرفوکس اور سفاری براؤزر استعمال کرنے والوں کا آئی کیو سو سے زیادہ نکلا۔ کم استعمال ہونے والے براؤزرز اوپرا اور کمینو کے صارفین کا آئی کیو ایک سو بیس سے زیادہ تھا جو غیر معمولی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی کیمرج یونیورسٹی کی شماریاتی لیباریٹری سے منسلک پروفیسر ڈیوڈ سپیگل ہالٹر سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ یہ اعداد و شمار غیر معمولی طور پر کم ہیں اور آئی ای استعمال کنندگان کی توہین کے مترادف ہیں۔



















