چین: خلائی جہازوں کو جوڑنے کا تجربہ

،تصویر کا ذریعہReuters
چین کا کہنا ہے کہ پہلی بار اس کے دو خلائی جہازوں کو مدار میں ایک ساتھ ملانے کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔
خلا باز کے بغیر یہ خلائی جہاز رواں ہفتے کے آغاز پر مدار میں بھیجا گیا تھا اور یہ مدار میں پہلے سے موجود خلائی جہاز ٹیانگ گانگ ون کے ساتھ جڑ گیا ہے۔
خلائی جہازوں کو مدار میں ایک دوسرے سے جوڑے کا سارا عمل چین نے خود سرانجام دیا ہے۔
چین اگر رواں عشرے کے اختتام پر خلائی سٹیشن قائم کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے دو خلائی جہازوں کو ایک ساتھ خلائی سٹیشن کے ساتھ جوڑنے کی صلاحیت حاصل کرنا ضروری ہے۔
اگرچہ خلائی جہاز شین ہو ایٹ میں خلا نورد سوار نہیں تھے لیکن مستقبل کے خلائی مشن میں انسان بھی سوار ہونگے۔
جمعرات کو زمین سے تین سو چالیس کلومیٹر کی بلندی پر دونوں خلائی جہازوں کو خودکار طریقے سے آپس میں جوڑا گیا تاہم چین کے خلائی مرکز بیجنگ فلائٹ کنٹرول سینٹر سے اس عمل کی نگرانی کی جا رہی تھی۔
چین کے خلائی مرکز کے پروفیسر یونگ یوگانگ نے کہا کہ دونوں جہاز مشترکہ طور پر بارہ دن کے لیے مدار میں چکر لگائیں گے اور اس کے بعد شین ہو ایٹ زمین پر واپس آ جائے گا۔
شین ہو نو اور دس اس طرح کے مشن پر آئندہ سال دو ہزار نو میں مدار میں روانہ ہونگے اور اس بار ان میں خلا باز بھی سوار ہونگے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی






















