بچوں میں کینسر سے متعلق کیٹلاگ جاری

،تصویر کا ذریعہbbc
امریکی سائنسدانوں نے بچوں میں سرطان یعنی کینسر جیسے مہلک مرض سے متعلق معلومات پر مبنی سب سے وسیع کلکشن جاری کیا ہے تاکہ نسلی طور پر متاثر بچوں سے متعلق علاج کی دریافت میں تیزی لائی جا سکے۔
امریکی پیڈریئٹک کینسر جینوم پروجیکٹ کے ذریعہ کینسر سے متاثر کل 260 بچوں کے تمام جینوم یعنی تمام ڈی این اے کی پیمائش کی گئی ہے۔
ماہرین نےان بچوں کے تمام نارمل خلیوں اور کینسر پھیلانے والے یا کینسر سے متاثر خلیوں کے درمیان اختلاف کی دریافت کر لی ہے اور انھوں نے ان وجوہات کی نشاندہی بھی کی ہے جن کے سبب بچوں میں چند مہلک ترین کینسر ہوتے ہیں۔
انھوں نے یہ امید ظاہر کی ہے کہ جب وہ اپنی معلومات کو دوسروں کے ساتھ شيئر کریں گے تو نئی پیش رفت ہوگی۔
اس کے ذریعہ آنکھوں کے ایک ایسے کینسر کے نئے علاج کے بارے میں بتایا گیا ہے جسے ریٹینوبلاسٹوما کے نام سے جانا جاتا ہے اور جو بہت کم لوگوں کو ہوتا ہے۔
یہ معلومات نیچر جینیٹکس جرنل میں شائع ہوئی ہے۔
یہ پراجیکٹ دو ہزار دس میں سنٹ جوڈ چلڈرنز ریسرچ ہاسپیٹل اور واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کے ذریعہ مشترکہ طور پر شروع کیا گیا تھا۔ اس میں نجی سرمایہ کاروں کی امداد بھی شامل ہے۔
اس پراجیکٹ کے تحت بچپن میں دماغ اور خون میں ہونے والے کینسر کے علاج کے سلسلے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن میں جینوم انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ ڈاکٹر رچرڈ ولسن نے کہا ’ہم نے اس طریقہ کار کے ذریعہ کئی مریضوں کے کینسر کے خلیوں میں عجیب و غریب تبدیلیوں کی نشاندہی کی ہے جو دوسرے طریقوں سے ہمیں معلوم نہیں ہو سکی تھی‘۔
انھوں نے مزید کہا، ’ہمیں ان معلومات کو اپنی تحقیق کرنے والی برادری کے ساتھ شیئر کرنے میں خوشی محسوں ہو رہی ہے اور ہیں امید ہے کہ وہ ہماری بنیادی معلومات میں اضافہ کریں گے‘۔
برطانیہ کینسر ریسرچ کے جاسفین کوئریدو نے کہا کہ یہ کام انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔




















