ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2021: نیوزی لینڈ کے ہاتھوں شکست کے بعد انڈین سوشل میڈیا صارفین کے آئی پی ایل پر پابندی کے مطالبے

ٹی 20 ورلڈ کپ میں انڈین کرکٹ ٹیم تاحال اپنی پہلی فتح کی تلاش میں ہے اور سیمی فائنل تک ٹیم انڈیا کی رسائی کا دارومدار اپنے بقیہ تمام میچ جیتنے کے ساتھ ساتھ دیگر ٹیموں کے میچوں کے نتائج پر منحصر ہے۔

انڈین شائقین ابھی پاکستان کے ہاتھوں شکست کے دھچکے سے باہر نہیں نکل پائے تھے کہ اتوار کی شب انھیں میدان میں ایک ایسی انڈین ٹیم دیکھنے کو ملی جس کی کارکردگی کو کسی بھی لحاظ سے عالمی معیار کے مطابق قرار نہیں دیا جا سکتا تھا۔

نیوزی لینڈ کے ہاتھوں بھی ایک یکطرفہ مقابلے کے بعد انڈین شائقین جہاں کافی مایوس اور ناراض نظر آ رہے ہیں وہیں وہ اس شکست کی وجوہات تلاش کرنے کی کوشش میں بھی ہیں۔

ان میں سے کئی مداحوں کو یہ جواب آئی پی ایل کی شکل میں ملا ہے جس کی وجہ سے گذشتہ رات انڈیا اور نیوزی لینڈ کے درمیان میچ ختم ہونے سے پہلے ہی ٹوئٹر پر ’بین آئی پی ایل‘ (یعنی آئی پی ایل پر پابندی لگائی جائے) ٹرینڈ کرنے لگا تھا۔

آئی پی ایل یا انڈین پریمیئر لیگ دنیائے کرکٹ کی سب سے مہنگی اور بڑی لیگ ہے اور اس میں پاکستان کے سوا عالمی سطح پر کرکٹ کھیلنے والے تمام ہی ممالک کے کھلاڑی شریک ہوتے ہیں۔

نیوزی لینڈ سے شکست کے بعد کچھ صارفین کا کہنا تھا کہ انڈیا کی ’شرمناک ہار‘ کی وجہ آئی پی ایل کا مشکل اور محنت طلب سیزن ہے جبکہ چند صارفین نے اسے پیسوں کے لالچ کے طور پر دیکھا۔

ٹوٹر صارف آدتیہ ورما نے لکھا کہ ’ٹیم کی باڈی لینگوئج پوری کہانی بیان کرتی ہے۔ آئی پی ایل 2020 میں انھی مقامات پر کھیلے گئے میچوں کے بعد وہ سبھی تھک چکے ہیں۔ اب تو ورلڈ کپ میں کوئی حوصلہ اور توانائی نہیں بچی ہے۔‘

کچھ صارف آئی پی ایل پر عارضی پابندی لگانے کے حق میں نظر آئے لیکن کچھ اپنے تبصروں میں مزید سفاک نظر ہیں۔

حکمراں جماعت بی جے پی کے رہنما گورو گوئل نے اپنی ایک ٹویٹ میں وراٹ کوہلی کو ٹیگ کیا اور ساتھ ہی ان کا وہ ٹویٹ بھی جس میں وراٹ ایک برانڈ کو فروغ دے رہے ہیں۔ یہ سب شیئر کرتے ہوئے گورو گوئل نے لکھا کہ ’ہمارے لیے دشمن ملک پاکستان کے ساتھ میچ۔۔۔ ہماری زندگی کے مانند ہے۔ لیکن آپ کے لیے یہ ایک اشتہار ہو گا۔‘

واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے پاکستان سے میچ ہارنے کے بعد جب انڈین ٹیم کے مسلمان رکن محمد شامی کی حب الوطنی اور مسلم شناخت کو بنیاد بنا کر انھیں شدید ٹرول کیا گیا تھا تو کوہلی نے ان کی حمایت میں ایک بیان جاری کیا تھا۔ کوہلی کے بےتکلف اور غیر مبہم بیان کی بہت سے لوگوں نے تعریف کی لیکن اس سے انڈیا میں ہندو دائیں بازو کے حامی کافی ناراض ہو گئے تھے بلکہ یہاں تک کہ ایک صارف نے کوہلی کی بیٹی کو عصمت دری کی بھی دھمکی دی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

بہت سے شائقین کرکٹ آئی پی ایل کے ابتدائی دنوں سے ہی اس کے ناقد رہے ہیں اور اس سیریز کو کرکٹ کے فروغ کے بجائے پیسے کے لالچ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ مؤرخ اور کرکٹ سے متعلق ماہر رامچندر گوہا نے اسے ’ہندوستانی معاشرے کی بدترین چیزیں، بدعنوانی اور کرونزم کو نمایاں کرنے والی‘ شے بتایا تھا۔

آئی پی ایل کا آغاز 2008 میں ہوا تھا اور فی الحال اس میں پاکستان کے علاوہ ہر ملک سے کھلاڑی شرکت کرتے ہیں لیکن وہیں انڈین کرکٹ بورڈ اپنے کھلاڑیوں کو کسی اور لیگ میں کھیلنے کی اجازت نہیں دیتا ہے یہاں تک کہ ریٹائرڈ کھلاڑیوں کو بھی دوسری لیگز میں کھیلنے کے لیے بورڈ سے اجازت کی ضرورت ہوتی ہے۔

انکت چودھری لکھتے ہیں کہ آئی پی ایل کا بہتریں پہلو یہ ہے کہ اس سے انڈیا کو نئے ہنر مند کھلاڑیوں کی تلاش کرنے میں مدد ملتی ہے۔ لیکن اس کا ایک منفی پہلو یہ ہے کہ ’وہ دباؤ کو ہینڈل کرنا نہیں جانتے، انھیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہیں ہے۔‘

اس کی عکاسی ٹونے کار نامی ایک صارف کی ٹویٹ سے ہوتی ہے جو انڈین کرکٹ بورڈ، صدر سورو گنگولی اور سیکریٹری جے شاہ کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’آئی پی ایل پر پابندی کوئی حل نہیں ہے اور ایسا ہو گا بھی نہیں۔ لیکن ایک بات میں ضرور کہوں گا کہ آئی پی ایل میں پاکستانی کھلاڑیوں کو شامل کیا جائے جو کہ سفارتی طور پر ایک اہم قدم ہو گا۔ تب ہی ہم اسے بغیر کسی مقابل کے بین الاقوامی لیگ بنا سکتے ہیں۔‘

انڈین بورڈ دنیا کا سب سے امیر کرکٹ بورڈ ہے اور عام طور پر ہر طرح کے کھیلوں کے امیر ترین اداروں میں سے ایک ہے۔ نقاد اکثر اس پر مغرور اور بےحس ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔ لیکن اس کے اتنے طاقتور ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس کی انتظامیہ میں ہر سیاسی جماعت اور نظریے کے لوگ شامل ہیں۔

ایک ویڈیو میں جسے بڑے پیمانے پر شیئر کیا جا رہا ہے، انڈین کرکٹ کے ایک مداح کو سٹیڈیم سے باہر آتے ہوئے اسی بات کو دہراتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ وہ ایک صحافی سے کہ رہے ہیں کہ جب آپ مغرور ہو جاتے ہیں تو ایسا ہی ہوتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’بورڈ اور آئی پی ایل، کام ڈاؤن۔۔۔ آپ خدا نہیں ہیں۔۔۔ آپ آئی پی ایل کے لیے نہیں کھیل رہے، آپ اپنے ملک کے لیے کھیل رہے ہیں۔۔۔ آپ دنیا کے امیر ترین بورڈ ہوں گے لیکن آپ اپنے ملک کے لیے کھیل رہے ہیں اور پچ پر آپ کو یہ دکھانا ہو گا۔'

انڈین کرکٹ ٹیم کی نازک صورتحال پر سوشل میڈیا صارفین کے مضحکہ خیز تبصرے بھی سامنے آئے ہیں۔ ایک اکاؤنٹ، جو کہ غالباً کسی پاکستانی صارف کا ہے، نے ’پوائنٹس ٹیبل‘ کو الٹا شیئر کیا جس کی وجہ سے ٹیبل میں اعلی ٹیمیں پاکستان اور افغانستان نیچے نظر آ رہی ہیں اور انڈیا سب سے اوپر۔ وہ لکھتے ہیں، ’ہم اپنے پڑوسیوں کے لیے اب صرف یہی کر سکتے ہیں۔‘

دوسروں نے متنازع ’موقع موقع‘ اشتہار اور ایک سابق انڈین کھلاڑی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’اس دوران دیگر ٹیمیں جیتنے اور اپنے نیٹ رن کو بہتر کرنے کے لیے انڈیا کے خلاف کھیلنے کے لیے قطار میں کھڑی ہیں۔‘