’ایجنٹ کے درست اندازے پر حیران ہوں‘

پاکستانی کرکٹرز فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنکیس کی سماعت گیارہ جنوری تک جاری رہے گی

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان بٹ کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ سال اگست میں لارڈز ٹیسٹ کے دوران خاص مراحل پر پاکستان کھلاڑیوں کے نو بال پھینکنے سے متعلق سے پاکستانی کھلاڑیوں کے ایجنٹ مظہر مجید کی پیش گوئی پر خود حیران ہیں۔

انہوں نے یہ بات انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے ضابطۂ اخلاق کمیشن کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہی۔

آئی سی سی کے کمشن نے سپاٹ فکسنگ کے الزامات کا سامنا کرنے والے تین پاکستانی کھلاڑیوں سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر کے خلاف سماعت جمعرات کو شروع کی ہے۔

دوحا میں موجود بی بی سی کے سپورٹس ایڈیٹر ڈیوڈ بانڈ کے مطابق اپنے ابتدائی بیان میں فاسٹ بالر محمد عامر نے تین رکنی کمشن کو بتایا کہ انہیں نہیں معلوم مظہر مجید نے نو بالوں کے بارے میں برطانوی اخبار نیوز آف دی ورلڈ کو کیوں بتایا۔

دوسری طرف فاسٹ بالر محمد آصف نے دیگر دونوں کھلاڑیوں سے مختلف موقف اختیار کیا۔ انہوں نے کمشن کو بتایا کہ انہوں نے نو بال غلطی سے کرائی تھی کیونکہ انہیں کپتان سلمان بٹ نے کہا تھا کہ وہ ایک تیز بال پھینکیں۔

آئی سی سی کے ایک اہلکار کے مطابق مائیکل بیلوف کی سربراہی میں قائم آئی سی سی کے ضابطۂ اخلاق کمیشن اس معاملے کی سماعت گیارہ جنوری تک کرے گا۔

جمعہ کے روز کمشن اخبار نیوز آف دی ورلڈ سے منسلک صحافی مظہر محمود کے بیان کی سماعت کرے گا جنہوں نے پاکستانی کھلاڑیوں کے سپاٹ فکسنگ میں ملوث کا انکشاف کیا تھا۔

سلمان بٹ نے دوحہ میں ہونے والی سماعت ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ سکاٹ لینڈ یارڈ کی تحقیقاتی رپورٹ آنے تک آئی سی سی ٹریبونل کی سماعت موخر کی جائے
،تصویر کا کیپشنسلمان بٹ نے دوحہ میں ہونے والی سماعت ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ سکاٹ لینڈ یارڈ کی تحقیقاتی رپورٹ آنے تک آئی سی سی ٹریبونل کی سماعت موخر کی جائے

ڈیوڈ بانڈ کے مطابق آئی سی سی اس کیس میں بڑی حد تک نیوز آف دی ورلڈ کی طرف سے فراہم کیے جانے والے شواہد پر انحصار کر رہا ہے جس نے ایک خفیہ آپریشن کے ذریعے یہ شواہد اکٹھے کیے تھے۔

مائیکل بیلوف ہیں جنہوں نےگزشتہ برس اکتوبر کے آخر میں سلمان بٹ اور محمد عامر کی جانب سے معطلی کے خاتمے کے لیے دی گئی درخواستوں کی سماعت کی تھی اور معطلی کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔

پاکستان کے سابق کپتان سلمان بٹ، فاسٹ بولر محمد آصف اور محمد عامر کے خلاف پاکستان کے دورۂ انگلینڈ کے دوران سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

اس فیصلے کے بعد سلمان بٹ نے دوحا میں ہونے والی سماعت ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ سکاٹ لینڈ یارڈ کی تحقیقاتی رپورٹ آنے تک آئی سی سی ٹریبونل کی سماعت موخر کی جائے۔ تاہم انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے اُن کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

اس کیس میں سلمان بٹ کی وکالت برطانوی وکیل یاسین پٹیل کر رہے ہیں، محمد عامر کے وکیل شاہد کریم ہیں جبکہ محمد آصف نے برطانوی وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون کے بھائی ایلن کیمرون کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں۔

سلمان بٹ کے سابق وکلاء اس کیس میں آئی سی سی پر جانبداری کا الزام عائد کر چکے ہیں۔ اُن کا اعتراض پہلی مرتبہ اُس وقت سامنے آیا تھا جب کھلاڑیوں کی عارضی معطلی ختم کرنے کی درخواست کی سماعت کے دوران آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو ہارون لوگارٹ اس میں بیٹھے تھے۔

دوسری بار انہوں نے ہارون لوگارٹ کے اُس بیان پر شدید ردِعمل ظاہر کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر پاکستانی کرکٹرز سزا سے بچ گئے تو انہیں سخت مایوسی ہوگی۔

خیال رہے کہ سپاٹ فکسنگ کا یہ تنازعہ اُس وقت سامنے آیا تھا جب برطانوی اخبار ’نیوز آف دی ورلڈ‘ نے پاکستانی کھلاڑیوں پر ایک بکی سے لارڈز ٹیسٹ میں نو بالز کروانے کے عوض رقم لینے کا الزام عائد کیا تھا۔

اس الزام کے سامنے آنے کے بعد سکاٹ لینڈ یارڈ نے اس معاملے کی تحقیقات شروع کر دی تھیں اور محمد عامر، محمد آصف اور سلمان بٹ کو پاکستانی ٹیم کے دورۂ انگلینڈ کے بقیہ میچوں میں شرکت سے روک دیا گیا تھا۔